Advertisement

صحافت کا ایک درخشاں ستارہ غروب ہوگیا

ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے بانی مدیر محترم الطاف حسن قریشی سترہ مئی کو علی الصبح 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ جامعہ اشرفیہ میں ادا کی گئی جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کےلئے بطور خاص دعا کی گئی۔
الطاف حسن قریشی نے 1960 میں ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کاآغاز کیا تھا جو گزشتہ 66 سال سے آج تک جاری ہے۔ یہ اندرون ملک و بیرون ملک بہت مقبول جریدہ ہے۔ الطاف حسن قریشی اس میں اداریے کے علاوہ کئی اہم و تاریخی واقعات پر روشنی ڈالتے تھے۔
مرحوم الطاف حسن قریشی کافی عرصہ سے علیل تھے اور چلنے پھرنے سے بھی معذور تھے۔ راقم الحروف نے ان کے ساتھ مالی اشتراک کے ذریعے ملتان سے روزنامہ جسارت کا اجراءکیا تھا اور راقم الحروف اس کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔
محسن انسانیت کے منصف جناب نعیم صدیقی صاحب کے ذریعے مولانا مودودی ؒ کو علم ہوا کہ راقم الحروف ، قریشی صاحب سے مل کر جسارت کا اجراءکر رہا ہے۔ مولاناؒ نے فرمایا کہ کیوں نہ ہم خود کراچی سے روزنامہ جسارت کا اجراءکریں۔ اس مقصد کےلئے راقم الحروف کراچی گیا اور وہاں چودھری غلام محمد مرحوم سابق امیر جماعت اسلامی ، سندھ سے ملاقات ہوئی اور انہیں اپنے ساتھ لے کر نیشنل پریس ٹرسٹ کے سابق چیئرمین اور فاروق ٹیکسٹائل ملز کے سربراہ کے پاس لے گیا ۔ انہوں نے فرمایاکہ چودھری صاحب آپ میرے پاس تشریف لانے کی زحمت نہ فرمائیں۔ میں انشاءاللہ فنڈز کا بندوبست کر کے آپ کو پہنچا دوں گا۔ اس طرح کراچی سے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام روزنامہ جسارت کا اجرا ہوا۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں جسارت پر بار بار پابندیاں لگائی گئیں لیکن یہ اخبار مسلسل جاری رہا جو اب تک کراچی سے شائع ہو رہا ہے۔
الطاف قریشی صاحب اور اعجاز قریشی مرحوم سے میرا تعلق 60 کی دہائی کے ابتدا سے ہے۔اس وقت ان کے خالو قاضی صاحب محکمہ انہار میں ملازم تھے اور ملتان میں قیام پذیر تھے۔ ان ہی کے ذریعے سے ہی میرا الطاف حسن قریشی سے رابطہ ہوا۔ الطاف صاحب سے زندگی میں سینکڑوں ملاقاتوں کا شرف حاصل ہے۔ وہ بہت عمدہ پائے کے مدید اور وقائع نگار تھے ۔ ان کی ایک کتاب دوہزار سے زائد صفحات پر مشتمل سانحہ مشرقی پاکستان شائع ہوئی جس میں انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا مفصل جائزہ لیا۔ الطاف حسن قریشی کئی کتابوں کے مصنف اور انہوں نے PINAبھی قائم کیا تھا ۔ راقم الحروف نے ان کو بار ہا بڑی تعداد میں کتب کا عطیہ دیا۔
یہاں میں یہ ذکر بھی کرناچاہتا ہوں کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے افضل الرحمن صاحب لندن سے نبی اکرمﷺ کی سیرت پاک پر انگریزی میں کئی جلدوں پر مشتمل ایک جامع ایڈیشن شائع کرنا چاہتے ہیں۔میں نے جسٹس انوار الحق صاحب کو اس بارے میں آگاہ کیا اور انہیں میں نے ایک سیٹ فراہم کیا۔ میں نے افضل الرحمن صاحب سے گذارش کی کہ وہ لاہور میں اپنے منصوبہ بارے ایک تقریب کا اہتمام کریں۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی جنرل ضیاءالحق شہید تھے۔ افضل الرحمن صاحب داتا دربار کے قریب ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے۔ الطاف حسن قریشی رات کو ان کے پاس موجود تھے ۔ انہوں نے مجھے فون کیا کہ افضل الرحمن صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں اور اب تک جتنی جلدیںشائع ہوئی ہیں ان کا ایک سیٹ آپ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے الطاف صاحب سے گذارش کی کہ آپ یہ سیٹ وصول کر لیں۔میں آپ سے لے لوںگا۔ افضل الرحمن صاحب تفصیلی ملاقات بھی چاہتے تھے لیکن میں نے گذارش کی کہ میں اس تقریب کی تفصیلی رپورٹ تیار کررہاہوں اس لئے آج آپ سے ملاقات نہیں ہو سکتی۔
الطاف حسن قریشی3 مارچ، 1932ءکو سرسہ ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔الطاف حسن قریشی کا صحافت کی دنیا میں بے پناہ کام ہے۔ صحافت میں انکے ذکر کے بغیر آپ آگے نہیں چل سکتے۔ الطاف حسن قریشی نے صحافت میں انمٹ نقوش قائم کیے ہیں۔ انکے صحافت میں ان گنت کارنامے ہیں۔ وہ صحافت کے لیجنڈ ہیں۔ ماضی سے حال تک ان کا کام پھیلا ہوا ہے۔ مستقبل بھی انکے عہد اور کارناموں سے معمور رہے گا۔ 2019ءمیں ان پر ایک اہم کتاب ”الطافِ صحافت“ شائع ہوئی ہے جسے ڈاکٹر طاہر مسعود نے مرتب کیا ہے۔2020ءمیں ان کی شخصیت پر چھپنے والی کتاب ”الطاف قریشی مدیر اعلیٰ اردو ڈائجسٹ کی شخصیت اور صحافی و ادبی خدمات“ میں طاہر مسعود نے ان پر چھپنے والے مضامین کو ایک کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے ان کے بارے میں لکھا ہے۔ اردو ڈائجسٹ ہر اعتبار سے دوسرے وسائل سے مختلف ہے۔ اس کے اندر وہ کچھ تھا جو کہیں اور نہیں تھا۔
میری دعا ہے آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے

error: