رچرڈز شیر دل سے ہر وہ شخص واقف ہے جس نے یروشلم کی تاریخ پڑھی ہے àجو صلاح الدین ایوبی کو جانتا ہے۔
اس مضمون میں آپ کو شیر دل کی زندگی کے وہ خفیہ گوشے ملیں گے جن سے بہت کم لوگ واقف ہیں
اس شخص کا فسانہ عجائب جو انگریزی نہیں جانتاتھا صرف فرنچ بولتاتھا ۔۔ فرنچ میں شاعری کرتاتھا ۔فرنچ ماں باپ کا بیٹا تھا ۔۔۔ فرانس میں پیدا ہوا ۔۔ فرانس میں مرا ۔۔ فرانس میں دفن ہے ۔۔ لیکن انگریزوں کا ہیرو ہے ۔۔
انجام کو پہنچ رہی تھی ۔۔ رچرڈ اب چوہے اور بلی کے اس کھیل سے اکتا گیا تھا — اس کے حوصلے پست ہو چکے تھے اور بیت المقدس کی فتح اب اسے ناممکن نظر آنے لگی تھی۔
سلطان کی چالوں اور جنگی حکمت عملی نے بھی اسے بری طرح پریشان اور ذہنی طور پر منتشر کر دیا تھااس کی سمجھ میں نہیں آتا تھاکہ وہ اسکے ان چھاپہ مار دستوں کاکیاعلاج کرے جو “حملہ کرو اور بھاگو “ کی پالیسی کے تحت کسی آندھی کی طرح آتے اور بگولے کی طرح نقصان پہنچاکر غائب ہو جاتے ان کے یہ حملے دن رات جاری رہتے تھے ۔
رچرڈز کی اس صورت حال اور ذہنی پریشانی کا تمام ہی مورخئین اور خاص طور پر لین پول نے بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔ چنانچہ اس نے سلطان کو صلح کا پیغام بھیج دیا۔ سلطان بھی جنگ کی طوالت سے پریشان تھا — لہٰذا دونوں نے سنجیدگی سے مذاکرات شروع کر دیے۔
سلطان کا بھائی العادل کئی بار اس سلسلے میں رچرڈ سے ملاقات کر چکا تھا — اور بڑی حد تک وہ دونوں دوست بھی بن چکے تھے — بلکہ مؤرخین نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ رچرڈ اپنی بیوہ بہن جون کی شادی العادل سے کرنے کی پیشکش بھی کر چکا تھا —
مگر اس شرط کے ساتھ کہ اگر سلطان فلسطین کی ساری ساحلی پٹی اس کی بہن کو دینے کا وعدہ کرے تو وہ اس کے بدلے میں اس کی شادی العادل سے کر دے گا۔ دونوں فوجوں میں العادل اور جون کے معاشقے کی داستانیں بھی عام تھیں۔
ابن شداد نے لکھا ہے کہ سلطان نے اس تجویز پر العادل کی بازپرس بھی کی تھی اور اس رشتے سے انکار کر دیا تھا۔
گیارہ سو بانوے عیسوی کے آخری مذاکرات دونوں اطراف کے لیے بہت مشکل ثابت ہوئے — اس کی بڑی وجہ عسقلان تھی۔ رچرڈ عکہ اور جافا کے ساتھ ساتھ عسقلان کا کنٹرول بھی چاہتا تھا — اس کے بدلے میں وہ یروشلم سے دستبردار ہونے کو تیار تھا۔ اس نے دھمکی دی:
“اگر مجھے عسقلان نہ ملا تو وہ گیارہ سو بانوے عیسوی کا موسم سرما بھی عرب ساحلوں پر ہی گزارے گا۔”
لیکن سلطان بھی عسقلان کی فوجی اہمیت سے پوری طرح واقف تھا — اور کسی صورت عسقلان صلیبیوں کو دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے جواب میں رچرڈ کو لکھا:
“عسقلان تو تمہیں کبھی نہیں ملے گا — بے شک تم اگلے دس موسم سرما یہاں شوق سے گزارو — میں تمہاری میزبانی کروں گا۔”
بالآخر دو ستمبر گیارہ سو بانوے عیسوی کو جافا میں امن معاہدہ ہو گیا۔ سلطان نے ٹائر سے لے کر عکہ اور جافا تک کے سارے ساحلی علاقے پر صلیبیوں کا قبضہ تسلیم کر لیا —
دوسری طرف رچرڈ یروشلم سے دستبردار ہو گیا۔ البتہ مسیحیوں کو بیت المقدس آنے اور مقدس مقامات کی زیارت کی کھلی اجازت دے دی گئی۔
عسقلان کو کسی کے کنٹرول میں نہیں رکھا گیا تھا بلکہ اسے مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا گیا — یوں پانچ ہزار سال پرانا عسقلان جو صدیوں سے اس خطے کا سب سے اہم فوجی مرکز رہا تھا ہمیشہ کے لیے تاریخ کے دھندلکوں میں کھو گیا۔
یہ ایک عارضی معاہدہ تھا جس کی مدت تین سال اور آٹھ ماہ تھی — اس مدت کے خاتمے کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر آزادانہ فوجی کارروائیوں کے لیے آزاد تھے۔
دشمنی کے دوستانہ اصول :
الوداعی دھمکیاں — جب دشمنوں نے ایک دوسرے کو خط لکھے
ابن شداد نے لکھا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران رچرڈ شدید بیمار تھا — اس نے سلطان سے کچھ پھل اور دوائیاں بھجوانے کا کہا تو سلطان نے نہ صرف دوائیاں اور پھل بھجوائے بلکہ اپنے طبیب کو بھی اس کے علاج کے لیے بھیجا۔
دشمنی کے اصول بھی ہوا کرتے تھے اس زمانے میں۔
اس دوستانہ فضا کے باوجود رچرڈ نے انگلینڈ لوٹتے وقت سلطان کو دھمکی بھجوائی کہ وہ لوٹ کر آئے گا اور یروشلم اس سے چھین لے گا۔ جواب میں
سلطان نے اسے لکھ بھیجا:
“وہ اس کا انتظار کرے گا –
یروشلم کسی اور کے حوالے کرنے کے بجائے اسے خوشی ہوگی اگر وہ اسے رچرڈ کے ہاتھوں ہار جائے۔”
دو دشمن — جو ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے — جو ایک دوسرے کو گھوڑے بھجواتے تھے اور بیماری میں طبیب بھیجتے تھے — لیکن میدان جنگ میں شیروں کی طرح لڑتے تھے۔ ایسی دشمنی آج کے زمانے میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔
ہیرو سے زیرو :
معاہدے کے بعد رچرڈ جافا سے عکہ چلا گیا اور وہاں سے بحری جہاز پر بیٹھ کر یورپ روانہ ہوا۔ یورپ میں اسے ایک شکست خوردہ بادشاہ کی حیثیت سے دیکھا گیا — کیونکہ وہ امن معاہدے پر دستخط کر کے خود اپنے ہاتھوں سے مقدس یروشلم سلطان ایوبی کے حوالے کر کے آیا تھا۔
ناراض ہو کر واپس جانے والے فرانس کے شہنشاہ فلپس دوم اور آسٹریا کے حکمران لیوپولڈ نے بھی اپنی خفت مٹانے اور فلسطین میں ہونے والی اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے اس کے خلاف خوب فضا بنائی تھی۔ رہی سہی کسر جافا کی پسپائی کے بعد واپس جانے والے فرنچ دستوں نے پوری کر دی تھی۔
وہ جو ہیرو بننے آیا تھا اب یورپ میں زیرو بن چکا تھا۔
اٹلی کے ایک جزیرے آقویلیا کے نزدیک اس کا بحری جہاز طوفان کی نذر ہو گیا تو وہ سڑک کے ذریعے یورپ سے گزرتا انگلینڈ کی طرف چلا — جہاں دسمبر گیارہ سو بانوے عیسوی میں ویانا کے نزدیک شہنشاہ لیوپولڈ نے اسے کونارڈ آف مونٹفریٹ کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
یہ وہی کونارڈ تھا جو گئی کے مقابلے میں سلطنت یروشلم کے تخت کا دعویدار تھا اور رچرڈ نے اس کی مخالفت کی تھی۔
گیارہ سو ترانوے عیسوی میں لیوپولڈ نے پوپ کی مداخلت پر اسے شہنشاہ روم ہنری چہارم کے حوالے کر دیا — جس نے اسے جرمنی کے ایک قلعے ٹریفلز میں قید کر دیا۔ جہاں اسے بڑے سخت اور مشکل حالات میں زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا تھا۔
اس قید کے دوران اس نے اپنوں کی بے وفائی اور طوطا چشمی پر کئی نظمیں لکھیں — اور اپنی بے بسی اور جیل کی تکلیفوں کا ذکر کیا ہے۔ زنجیروں کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ یہ زنجیریں اتنی بھاری تھیں کہ ایک گھوڑا یا گدھا بھی ان کے بوجھ تلے چلنے سے قاصر ہوتا۔
اس کی ماں ملکہ الینور نے پوپ اور شہنشاہ ہنری سے اس کی رہائی کے لیے درخواست کی — جس پر ہنری نے ڈیڑھ لاکھ مارک یعنی ایک لاکھ چاندی کے پاؤنڈ اس کی رہائی کے عوض مانگے۔
یہ وہی رقم تھی جو اس نے فلسطین جانے سے پہلے “صلاح الدین ٹیکس” کے نام سے اپنی عوام سے اکٹھی کی تھی — ستم ظریفی دیکھیے کہ صلاح الدین کے نام پر جمع ہونے والی رقم اب رچرڈ کی اپنی رہائی پر خرچ ہو رہی تھی۔
میڈن نے ولیم آف نیو برگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ اتنی بڑی رقم تھی جو انگلینڈ کی سالانہ آمدنی سے تین گنا زیادہ تھی۔
اس کی ماں الینور نے یہ رقم اکٹھی کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیے — انگلینڈ کے عوام پر ٹیکس لگایا گیا، چرچوں اور کلیسائوں کی قیمتی اشیاء فروخت کی گئیں، ملکہ الینور نے اپنے گہنے اور زیورات بھی فروخت کر دیے۔
یوں یہ رقم اکٹھی ہوئی اور چار فروری گیارہ سو چورانوے عیسوی کو اپنی ماں کی ان تھک کوششوں سے اسے رہائی ملی۔
ولیم آف نیو برگ نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس دوران اس کے بھائی شہنشاہ جان اور فرانس کے بادشاہ فلپس نے ہنری کو اسی ہزار پاؤنڈ کی پیشکش اس لیے کی تھی کہ اسے نہ چھوڑا جائے — جس پر پہلے تو وہ رضامند ہو گیا لیکن جب رچرڈ کی ماں نے ایک لاکھ پاؤنڈ دینے کی ہامی بھری تو وہ اپنے وعدے سے مکر گیا۔
پرسر نے بیان کیا ہے کہ اس کی رہائی پر فلپس نے اس کے بھائی جان کو پیغام بھیجا کہ “اپنی خیر منا — شیطان آزاد ہو گیا ہے۔”
شیردل کی موت
شیردل کی موت — جب ایک پندرہ سالہ لڑکے نے شیر مار دیا
جب وہ انگلینڈ پہنچا تو اس نے اپنے بھائی جان کو معاف کر دیا۔ اس کی گرفتاری کی خفت مٹانے کے لیے ونچسٹر میں گیارہ مارچ گیارہ سو چورانوے عیسوی کو دوبارہ اس کی تاجپوشی کی گئی۔
فلوری نے اس کی زندگی کی آخری مہم کے بارے میں بڑی تفصیل دی ہے — چھبیس مارچ گیارہ سو ننانوے عیسوی کو جب وہ مغربی فرانس کے ایک شہر شالو میں ایک فوجی مہم پر تھا تو ایک پندرہ سالہ لڑکے نے اپنے بھائی اور باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کراس بو کے ذریعے اس پر حملہ کیا جس میں وہ زخمی ہو گیا —
بعد میں زخم بگڑنے کی وجہ سے چھبیس اپریل گیارہ سو ننانوے عیسوی کو اس نے اکتالیس سال کی عمر میں اپنی ماں کی بانہوں میں دم توڑ دیا۔
اس کی آنتوں اور دوسرے اجزاء کو شالو میں دفن کیا گیا جبکہ دل نارمنڈی میں دفن ہے — اس کی ماں اس کی میت کو لے کر مغربی فرانس کے قصبے فونتوغا ایبے پہنچی اور اسے اس کے باپ شہنشاہ ہنری دوم کے پہلو میں دفن کر دیا۔ اس کی اس طرح ایک نامعلوم چھوٹے لڑکے کے ہاتھوں موت پر انگریزی میں یہ کہاوت مشہور ہوئی کہ “شیر کو چیونٹی نے مار ڈالا۔”
لیکن سٹیون رینسمین نے لکھا ہے کہ جب اسے ہوش آیاتو اس نے اس ننھے لڑکے کو معاف کر دیا ۔
فروری دو ہزار پچیس عیسوی میں جب میرا یونیسکو کی میٹنگ میں شرکت کے لیے فرانس جانا ہوا تو میں جنگ ٹورز کے مقام کو دیکھنے کے لیے پوئتیے گیا —
جہاں دس اکتوبر سات سو اکتیس عیسوی کو فرانس کے بادشاہ چارلس مارٹیل اور اندلس کے گورنر عبدالرحمن الغافقی کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی تھی جس نے یورپ کے مستقبل کا فیصلہ کیا تھا ۔
پوئتیے واپس آتے ہوئے میرے ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں شامل ۔۔ فونتوغا ایبے یہاں سے صرف پچاس کلومیٹر دور ہے جہاں رچرڈز ۔ دی لائن ہاٹ اپنے والد ہنری دوم، اور ماں طاقتور ملکہ ایلینور اپنی بھابھی اور شہنشاہ جان کی بیوی ازابیلا آف اینگولیم ۔۔ بہن جوآن آف انگلینڈ اور بھانجے اور جوآن کے بیٹے ریمنڈ ہفتم کے ہمراہ دفن ہے۔ اور یہ سارا علاقہ بارہویں صدی عیسوی میں رچرڈ کی ملکیت تھا جو اسے اپنی ماں الینور سے وراثت میں ملا تھا — تو میں اپنے آپ کو وہاں جانے سے نہ روک سکا۔
اور میں نے اپنے ٹیکسی ڈرائیور گبرئیل سے درخواست کی کہ مجھے فونتوغا ایبے لے چلے۔
گبرئیل ایک بڑا خوش مزاج فرانسیسی تھا اسے پہلے ہی میرے مشاغل کا اندازہ ہو چکا تھا اس نے ہامی بھر لی اور ٹیکسی کا رخ فونتوغا کی طرف موڑ لیا ۔
فونتوغا ایبے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے دامن میں بسا ۔۔۔۔ دریائے لوار اور دریائے ویئن کے سنگم کے قریب واقع ۔ ۔۔۔ ایک چھوٹا سا لیکن بہت خوبصورت گاؤں ۔۔ جسے فرانس کا خوبصورت ترین گاؤں ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ اس کی آبادی پندرہ سو کے قریب ہے ۔
ہماری ٹیکسی اس کی خوبصورت اور دلکش گلیوں میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ سارا گاؤں سفید مقامی پتھروں سے بنا تھا جسے ٹفّو کہتے ہیں ۔ صاف نیلے آسمان کی چھت تلے دھوپ میں چمکتے ۔۔ ٹفو سے بنے مکانوں کے درودیوار ۔
ایک جیسا یکساں اور پُرسکون ماحول ، کہیں کہیں ٹہلتا ہوا کوئی راہگیر ۔۔ سر سبز دورویہ درختوں سے سجی صاف ستھری گلیاں ۔۔ ایک جیسے دو منزلہ مکانوں کی بالکونیوں اور کھڑکیوں میں سجے سرخ گلاب اور نیچے لٹکتی ۔۔۔ رنگ برنگے پھولوں سے لدی بوگن ویلا کی بیلیں ایک عجیب اور دلفریب بہار کا منظر پیش کرتی تھیں ۔
جیسے یہ گاؤں نہ ہو کسی بہت ماہر مصور کی بنائی پینٹگ ہو جس نے فطرت کے سارے رنگ اس میں بھر دیئے تھے ۔۔
چھوٹے چھوٹے گرجا گھر ۔۔ مکانوں کی چمنیوں سے اٹھتا دھواں ۔۔ پرانی خانقاہوں کے گھنڈرات ۔۔ سفید دیواروں کے پیچھے سے جھانکتے سیب آلو بخارے سے لدے باغات فضا میں چھایا عجیب طرح کا سکوت اور خاموشی ۔۔ ہر طرف پھیلی قدیم تاریخ کا احساس ۔۔ لگتا تھا جیسے پھولوں بھری یہ گلیاں رازوں سے بھری ہوں ۔ ہر گلی ۔۔ ہر عمارت ۔۔
ان میں چھائی خاموشی اس گاؤں کی تاریخی داستان پیش کر رہی تھیں ۔
میں مسحور سا اس طلسم ہوش ربا اس جادونگری کو دیکھتا رہا ۔ مجھے اس طرح محو پا کر میرا ٹیکسی ڈرائیور گبرئیل مسکرایا
اور اپنے مخصوص فرانسیسی لہجے میں بولا ۔
بیوٹی فل ۔۔از اینٹ
“ہاں گبرئیل میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ رچرڈز شیر دل اتنی خوبصورت جگہ اپنی آخری نیند سو رہا ہے ۔”
میں نے خوابناک انداز میں جواب دیا ۔
یہ ساری ایکویٹائن ریاست رچرڈز کی ماں ملکہ ایلینور کی تھی جو شادی کے بعد اس کے باپ ہنری دوئم کو جہیز میں ملی اور اس طرح وہ انگلستان کے ساتھ ساتھ آدھے فرانس کا بھی مالک بن گیا ۔ تاریخ میں اسے اینگوئین ایمپائر کہتے ہیں ۔ “
گبرئیل نے کہا ۔
ادھیڑ عمر گبرئیل اسکول ٹیچر تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیکسی ڈرائیور اور ٹورسٹ گائیڈ بن گیا تھا اس لئے تاریخ سے خوب واقف معلوم ہوتا تھا
مجھے اس کی بات کچھ عجیب سی لگی ۔
“تو کیا فرانس بھی انگلستان کا حصہ رہا ہے “
ہاں اس نے کہا
“ رچرڈز شیر دل کا خاندان پلانٹیجنیٹ کہلاتا تھا جس کا بانی اس کا دادا جیفری فرانس کے علاقے انجو کا کاؤنٹ تھا ۔
اس وقت فرانس چار بڑی خودمختار ریاستوں نارمنڈی ۔۔ انجو ۔۔ برٹنی اور ایکویٹائن میں بٹا ہوا تھا ۔
جیفری کی بیوی اور ہنری کی ماں ملکہ مٹلڈا انگلستان کے بادشاہ ہنری اول کی بیٹی تھی ۔ ہنری کی کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی لہذا ہنری دوئم کو انگلستان ماں کی طرف سے وراثت میں اور فرانس کی ریاست ایکویٹائن بیوی کی طرف سے جہیز میں ملی ۔۔ باپ کے مرنے کے بعد وہ اینجو کا حکمران بھی بن گیا ۔۔۔ یوں وہ انگلستان اور فرانس کا مشترکہ تاج حاصل کر کے پہلا پلانٹیجنیٹ بادشاہ بنا ۔
وہ فرانس میں پیدا ہوا، فرنچ بولتا تھا، فرانس میں رہتا تھا، اور فرانس میں دفن ہوا – لیکن قانونی طور پر وہ انگلستان کا بھی بادشاہ تھا۔ اور فرانس کا بھی ۔۔
اس خاندان نے انگلستان پر گیارہ سو چوون سے چودہ سو پچاسی تک تین سو سال تک حکومت کی۔ یہ یورپی تاریخ کے سب سے طاقتور اور متنازع خاندانوں میں سے ایک ہے۔
اور ملکہ ایلینور کی یہی جائداد اور ملکیت بعد میں فرانس اور انگلینڈ کے درمیان سو سالہ جنگ کی بنیاد بنی ۔
“ایبے فرنچ میں خانقاہ کو کہتے ہیں ۔ ایسی درسگاہ جہاں عیسائی راہب رہتے ہوں “
“بارہویں صدی عیسوی میں یہاں فرنچ راہبوں اور راہبات کی ایک بہت بڑی مخلوط خانقاہ ہوا کرتی تھی ۔ یہ قصبہ ایبے کے ارد گرد بستیاں آباد ہونے سے وجود میں آیا۔”
اس نے گاڑی ایک گلی میں موڑتے ہوئے کہا ۔
“یہ فونتوغا ایبے کی مین سڑیٹ ہے ۔ “
پھولوں سے لدی اس گلی میں کچھ ہلچل نظر آ رہی تھی ۔۔ دورویہ سڑک کے درمیان میں بلند و بالا درختوں کے نیچے بچھی گھاس پر بینچ پڑے تھے جن پر لوگ بیٹھے تھے ۔۔ گلی کے دونوں اطراف انواع واقسام کی دکانیں کھلی تھیں ۔ یہ گلی نہیں تھی رنگوں کی بہار تھی جس میں ہر طرف رنگ بکھرے تھے ۔
سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان رنگوں کا موجب تھی ۔جن کے رنگ بھرنگے کپڑے اور رنگت کناروں پر لگے پھولوں سے ہم رنگ ہو کر گلی کی خوبصورتی کو دو آتشہ کر رہے تھے ۔
یہ ایبے نہ صرف یورپ کی سب سے بڑی خانقاہی بستیوں میں سے ایک تھی، بلکہ یہ پلانٹیجنیٹ خاندان کا روحانی مرکز اور تدفین کی جگہ بھی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج رچرڈ شیر دل، اس کا والد ہنری دوم، اور والدہ ایلینور آف ایکویٹائن کے مجسمے اور قبریں یہاں موجود ہیں۔
پھر فرانسیسی انقلاب کے بعد اٹھارہ سو چار میں نپولین بوناپارٹ نے ایبے کی عظیم الشان عمارت کو ایک مرکزی جیل میں تبدیل کر دیا جو اگلے ڈیرھ سو سال تک قائم رہی یہ فرانس کی سب سے مشہور اور مضبوط ترین جیل تھی جس میں دو ہزار تک قیدی رکھے جا سکتے تھے
انیس سو تریسٹھ میں جیل کے بند ہونے کے بعد یہاں ایک عظیم بحالی کا کام شروع ہوا۔
انیس سو پچھتر سے یہ ایبے ایک ثقافتی مرکز میں تبدیل ہو گئی ۔ آج سیاحوں کو یہاں نہ صرف قرون وسطیٰ کی تاریخ سے واسطہ پڑتا ہے ۔۔۔ بلکہ عصرحاضر کے جدید آرٹ کے میوزیم میں آٹھ سو سے زائد فن پارے بھی دیکھ سکتے ہیں ۔”
گفتگو کے درمیان ہم گاؤں کی پھولوں اور رنگوں سے لدی خوبصورت گلیوں سے گزرتی سر سبز اور اونچے قدیم درختوں سے گھری ایک انتہائی عظیم الشان قلعۂ نما بہت بڑی عمارت کے سامنے پہنچ گئے ۔
یہ عمارت کسی لحاظ سے بھی گرجا یا چرچ نہیں لگتی تھی ۔
مجھے ایبے کے مرکزی چرچ پر اتار تے ہوئے گبرئیل نے کہا ۔
“ ایبے کا کل رقبہ پنتیس ایکڑ ہے اور یہ یورپ کا سب سے بڑا عبادت خانہ ہے اس میں کئی باغ اور پانچ مرکزی عمارتیں ہیں جن میں سے اکٹر جیل خانے کے طور پر استعمال ہوتی رہیں ۔
ڈاکٹر میں تمہارے ساتھ اندر نہیں جاؤں گا یہاں قریب ہی میری خالہ رہتی ہے میں سوچ رہا ہوں کہ یہاں آیا ہوں تو اسے مل لوں تم جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے کال کر لینا ۔
لیکن زیادہ دیر نہ لگانا ہمیں واپس پوئیٹے بھی پہنچنا ہے ۔”
گبرئیل نے مجھے اپنا فون نمبر دیا اور رخصت ہو گیا ۔
یہاں خوب رونق تھی سیاحوں کی بڑی تعداد تاریخ کے اس انوکھے باب کو پڑھنے آئی ہوئی تھی
مرکزی گیٹ کے باہر سے ایک بہت بڑا چوکور مینار اور آٹھ چھوٹے برج جھانک رہے تھے یہ برج دیواروں پر ایک تاج کی طرح دِکھتے تھے
ان سے پیچھے شاہی باورچی خانے کی چھت پر مچھلی کے فلس جیسی بناوٹ والے چھ برج تھے جو بالکل شطرنج کے مہروں کی طرح لگتے تھے
سڑک کے پار دوسری طرف کئی منزلہ بیرک نما عمارتیں نپولین کی بنائی جیل کی باقیات لگتی تھیں ۔
اس ساخت اور بناوٹ والی ایسی عمارت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔
گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی لگا جیسے وقت رک گیا ہو ۔
آنکھیں چند سیکنڈ کے لیے چندھیا گئیں باہر سورج کا اجالا تھا لیکن اندر مصنوعی روشنی کا جادو ۔ مدھم سنہری روشنی ۔۔ پتھر کی دیواروں سے ٹکراتی ہوئی پوری عمارت میں پھیلی
یہ روشنی باہر کے اجالے اور اندر ماحول کے درمیان کا وہ مقام تھا جس میں داخل ہو کر لگا میں زمین پر نہیں، کسی اور جہان میں پہنچ گیا ہوں
جب اپنا سر اٹھا کر چھت کی طرف دیکھا تو سانس رک سی گئی ۔ یہ چرچ اتنا اونچا تھا کہ چھت کہیں آسمانوں میں کھو گئی تھی
رومن اور گوتھک طرز کی انتہائی اونچی محرابیں arches) احساس دلاتی تھیں کہ انسان کتنا چھوٹا ہے اور یہ عمارت کتنی بڑی
یہاں بہت لوگ تھے ان کی آوازوں کی گونج اس بڑے ہال کی خاموشی پر غالب تھیں ہر آواز ایک باز گشت بن کر گونجتی تھی لیکن مجھے لگا یہ خاموشی کا شور ہے ۔
درودیوار کی خاموشی ۔۔ تاریخ کی خاموشی جسے صرف میں محسوس کر سکتاتھا جس کی اپنی گونج تھی ۔۔ جس میں ساری آوازیں گم ہوتی محسوس ہوتی تھیں
مجھے اپنے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی رہی لیکن پھر یہ آہٹ بھی کہیں دب گئی اور یہ خاموشی اتنی گہری ہو گئی کہ مجھے اپنے دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی ۔
میرے پیروں کے نیچے پتھر کا ٹھنڈا فرش تھا لیکن اس میں ایک عجیب حرارت تھی ۔۔ تاریخ کی تمازت ۔۔ وقت کی تپش
وہی پتھر جن پر نو سو سال پہلے راہب چلتے تھے، جہاں بادشاہ اپنے گھٹنوں کے بل گرتے تھے، جہاں قیدی اپنی آخری سانسیں لیتے تھے۔ پتھر مجھے اپنے پیروں تلے جلتے محسوس ہوئے ۔
یہ پتھر مجھے بتا رہے تھے کہ “ تم صرف ایک لمحے کے لیے ہو، ہم صدیوں سے ہیں۔”
جب میں نے اپنی نظر سیدھی کرکے سامنے دیکھا
تو مجھے چار لیٹے ہوئے مجسمے نظر آئے دو قطاروں میں ۔۔ یہ رچرڈ شیر دل، اس کا کا باپ ہنری دوم، اس کی ماں ایلینور، اور اس کی بھابی ازابیلا تھیں ۔ چار پتھر کے تابوت ( سارگوفکس ) اور ان پر لیٹے چار قد آدم پتھر کے مجسمے جن کے گرد ایک ریلنگ لگی تھی ۔میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا رچرڈ شیر دل کے تابوت کے سامنے جا کر کھڑاہو گیا
میری سانسیں خود بخود گہری ہوتی گئیں مجھے لگا جیسے یہ ماحول یہ جگہ مجھے اپنے اندر اندر کھینچ رہی ہے۔ جیسے یہ فونتوغا ایبے کا مرکزی چرچ میں نہیں میوزیم نہیں بلکہ تاریخ کی جادونگری ہے گہری کھائی جیسی ۔ اور میں اس میں اترتا چلا جا رہاہوں ۔
میرے سامنے رچرڈز کا تابوت تھا
اصل تابوت جس میں کبھی اس جسم دفنایا گیا تھا
میں نے لندن میں ویسٹ منسٹر کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اس کا گھڑ سوار مجسمہ بھی دیکھا تھا ۔۔ اسے زرہ بکتر میں تلوار اٹھائے ایک طاقتور گھوڑے پر سوار دکھایا گیا ہے ۔
میں نے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم لندن میں فونتوغا والے اس اصل پتھر کے مجسمے کی پینٹ شدہ رنگین پلاسٹر کی بنی نقل بھی دیکھی تھی ۔
لیکن جو کیفیت آج اس کے تابوت کے سامنے کھڑے ہو کر ہوئی تھی وہ بڑی انوکھی تھی ۔
رچرڈ شیر دل کا مجسمہ دیکھنے میں خوفناک حد تک زندہ، شاہانہ اور دبدبے والا لگتا تھا جسے یہ صرف ایک مجسمہ نہیں بلکہ ایک ایسا پتھر ہے جس میں تاریخ کی روح پھونک دی گئی ہو ۔
تابوت پر لیٹا ہوا ۔۔ ساڑھے چھ فٹ لمبا ۔۔ پتھر کا بنا ایک بادشاہ جو اپنی ہمیشہ کی نیند سو رہا تھا لیکن پھر بھی اس کے اندر وہی طاقت محسوس ہوتی تھی جس نے پورے یورپ کو دہلا دیا تھا
سر پر شاہی تاج ۔۔ جس پر پتھر کے پتے اور پھول بنے ہوئے تھے
·اس کے ہاتھ میں ایک بڑی تلوار تھی ۔ صلیب کی شکل کا دستہ جو عیسائیت اور بہادری کی علامت ہے۔
·اس کے پاؤں ایک شیر کے اوپر رکھے تھے جو اس کے عرف “شیر دل “ ہونے کی علامت ہے۔
اس مجسمے اور تابوت کے اصلی رنگ گو کہ امتداد زمانہ کی نذر ہو چکے ہیں یہ بے رنگ اور سرمئی سا نظر آتا تھا لیکن میں نے اس کے رنگ لندن کے میوزیم والی نقل پر دیکھے تھے جو تیرہویں صدی میں اس پر پینٹ کئے گئے تھے ۔
جس میں تابوت اور مجسمے کو سرخ، نیلے اور سنہری رنگوں سے پینٹ کیا گیا تھا:
· اس کا چہرہ گلابی سرخ تھا۔
· اس کے بال سنہری تھے۔
· اس کا تاج اور تلوار سنہری تھے۔
· اس کا لباس نیلا تھا۔
· اس کی ڈھال (جس پر تین شیر بنے ہیں) سنہری اور سرخ تھی۔
یہ ایک ایسا شاندار منظر تھا جسے دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ جا جاتا ہے ۔
سترہ سو ترانوے میں انقلاب فرانس کے دوران اگرچہ یہ مجسمے تو محفوظ رہ گئے، لیکن ان کے اصل پتھر کے مقبروں کو توڑ دیا گیا اور ان کے اندر رکھی ہڈیوں کو زمین پر بکھیر دیا گیا
اور انہیں ایبے کے تہہ خانوں پھینک دیا گیا ۔
جب نپولین نے اٹھارہ سو چار میں اس عمارت کو جیل میں تبدیل کر دیا، تو ان مجسموں کو دوبارہ چرچ میں رکھ دیا گیا، لیکن کوئی خاص مقام نہیں دیا گیا ۔ یہاں تک کہ بڑے عرصے تک یہ ایک دیوار کے ساتھ اوپر نیچے پڑے رہے ۔
اٹھارہ سو چونتیس میں فرانسیسی مصنف اور تاریخی یادگاروں کے ماہر پروسپر میرمی نے ان مجسموں کو تاریخی حیثیت میں درج کرایا ۔ اس کے بعد انہیں بحالی کے لیے پیرس بھیجا گیا ۔
انیس سو چودہ میں معمار لوسین میگن نے چرچ کی بحالی کے دوران ان مجسموں کو دوبارہ ان کی اصل جگہ پر نصب کیا ۔
آج یہ چاروں مجسمے چرچ کے جنوبی حصے میں رکھے ہیں ۔ اصل ہڈیاں گردش دوراں کی نذر ہوچکیں اصل ہتھر کے تابوت بھی انقلابیوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے لیکن یہ پتھر کے مجسمے آج بھی پلانٹیجنیٹ خاندان کی عظمت کی خاموش گواہی دے رہے ہیں۔
رچرڈز شیر دل سے ملاقات جس کے تذکرے میں بچپن سے سنتا آیا تھا ۔ جسے ہمیشہ میں نے سلطان صلاح ایوبی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا تھا لیکن آج اس کی اجڑی قبر پر کھڑے ہو کر احساس ہوا
میں صرف رچرڈزسے ہی نہیں ملا میں نے خود سے بھی ملاقات کی ہے اور تاریخ سے بھی ۔
فونتوغا ایبے کے مرکزی چرچ میں داخل ہونا کسی میوزیم میں جانے جیسا نہیں تھا بلکہ تاریخ کے دل میں اترنے جیسا تھا ۔۔
یہاں آکر میرے دل نے کہا “ یہاں رک جاؤ، ٹھہر جاؤ، اس جگہ کو محسوس کرو۔”
اور میں رک گیا ۔۔ بڑی دیر وہیں کھڑا رہا جہاں صدیوں پہلے بادشاہ اور راہب اور قیدی کھڑے ہوتے تھے۔
اور ماضی کے بادشاہوں کو محسوس کرتا رہا جیل کے قیدیوں کی آہیں سنتا رہا ۔۔ راہباؤں کی خاموش عبادت میں شریک رہا اور جدید آرٹ کی تخلیقی توانائی کو چھوتا رہا ۔
رچرڈ کا اصل چہرہ — تین شیروں والا نشان
رچرڈ کی ماں فرنچ تھی — اس کا باپ اور دادا بھی فرنچ تھے ۔ اس کے بچپن کا زیادہ حصہ فرانس میں اپنی ماں کی جاگیر پر گزرا۔ وہ ریاست آنگوین کا بادشاہ تھا ماں کی طرف سے ملنے والی ماں کی جاگیر کا بھی مالک تھا — جو بارہویں صدی عیسوی میں انگلینڈ اور فرانس کے مشترکہ علاقوں پر مشتمل تھیں ۔۔
اپنے دس سالہ دور حکومت میں اس نے بمشکل چھ ماہ انگلینڈ کی سرزمین پر گزارے ہوں گے — وہ انگلش سے زیادہ فرنچ زبان بولتا تھا فرنچ میں شاعری کرتا تھا ۔۔ وہ فرانس میں پیدا ہوا فرانس میں مرا آج فرانس میں ہی دفن ہے لیکن اس کے باوجود وہ آج انگلینڈ کا سب سے مشہور شہنشاہ سمجھا جاتا ہے۔انگلینڈ کا ہیرو ۔ انگلش لوگوں کا رول ماڈل ۔ عام آدمی کا افسانوی ہیرو ۔۔
اس کا فوجی نشان جس پر تین شیر کندہ ہیں آج انگلینڈ کا سرکاری فوجی نشان ہے — اور انگلینڈ کی تمام کھیلوں کی ٹیموں کا سرکاری نشان بھی۔
ہے ناں حیرت کی بات ۔۔
میرے لئے یہ سب اتنا بڑا انکشاف تھا کہ تاریخ کا یہ باب میں بڑی دیر تک ہضم نہ کر سکا ۔۔
لیکن مغربی مورخ ۔۔ جدید اور قدیم ۔۔ اس کے بارے میں بڑا مختلف نقطہ نظر بھی رکھتے ہیں شائید یہی اس کا اصل چہرہ ہے ۔
سر اسٹیون رنسی مین نے اپنی کتاب “ہسٹری آف کروسیڈز” میں اس کے بارے میں تبصرہ کیا ہے “کہ وہ برا بیٹا تھا، برا خاوند تھا، برا باپ تھا اور برا بادشاہ تھا — لیکن ایک بہادر اور شاندار سپاہی تھا۔”
لیکن اکثر مسلم اور مغربی تاریخ دانوں نے تیسری صلیبی جنگ میں اس کے کردار کے حوالے سے اس کی تعریف کی ہے — اور یہی کردار اسے تاریخ میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ صلاح الدین کا سب بڑا دشمن ثابت ہواتھا وہ حملہ آور تھا اور فلسطین کی سرزمین اور موسم کے لئے بلکل اجنبی تھا جبکہ سلطان مقامی تھا اور اپنی سرزمین کا دفاع کر رہاتھا فلسطین کے موسم کا عادی تھا لیکن اس کے باوجود رچرڈ نے اپنی جواں مردی اور ہمت سے سلطان کی منزل اس طرح کھوٹی کر دی کہ اگر وہ تیسری صلیبی جنگ کی قیادت نہ کر رہا ہوتا تو صلاح الدین فلسطین شام اور لبنان سے صلیبیوں کا نام ونشان تک مٹا دیتا ۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران جب جنرل ایلن بی نے یروشلم فتح کیا تو برطانیہ کی اخبارات نے شہ سرخیاں لگائیں: “آج ایلن بی نے رچرڈ شیردل کا ادھورا کام مکمل کر دیا۔”
ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کی آنے والی کتاب ’اہلِ وفا کی بستی‘ سے ایک اقتباس
جب میں رچرڈز دی لائن ہارٹ سے ملنے گیا
















