Advertisement

عافیہ صدیقی، آمنہ جنجوعہ اور انتظار کی اذیت

بعض داستانیں وقت گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتیں۔ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو برسوں بعد بھی جواب طلب رہتے ہیں اور کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی پاکستان کی اجتماعی یادداشت کا ایسا ہی ایک باب ہے جو دو دہائیوں سے عوامی بحث، انسانی حقوق کی جدوجہد اور قومی احساسات کا حصہ بنا ہوا ہے۔
جب بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ذکر ہوتا ہے تو میرے ذہن میں صرف ایک نام نہیں آتا بلکہ پورا ایک دور زندہ ہو جاتا ہے۔ وہ دور جب اسلام آباد کے پرانے پریس کلب کے سامنے انسانی حقوق، لاپتہ افراد اور انصاف کے مطالبات کے لیے چھوٹے چھوٹے کیمپ لگتے تھے۔ وہاں آنے والے لوگ سیاست دان نہیں تھے، ان میں سے اکثر عام پاکستانی تھے جن کے دلوں میں اپنے پیاروں کی جدائی کا دکھ تھا۔
2007 اور 2008 کے دن آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے آواز بلند کر رہی تھیں۔ دوسری طرف محترمہ امنہ مسعود جنجوعہ اپنے لاپتہ شوہر مسعود جنجوعہ کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔ ہم بھی ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے، ان کی بات سنتے تھے اور ان کی بے بسی کو محسوس کرتے تھے۔
اس وقت شاید بہت سے لوگوں کے لیے یہ صرف ایک احتجاج تھا، لیکن میرے لیے یہ انسانی دکھوں کا ایک کھلا ہوا دفتر تھا۔ وہاں آنے والے خاندانوں کے چہروں پر امید بھی ہوتی تھی اور مایوسی بھی۔ ہر شخص کے پاس ایک کہانی تھی، ہر آنکھ میں ایک سوال تھا اور ہر دل میں ایک امید تھی کہ شاید آج کسی کو ان کی فریاد سنائی دے جائے۔
امنہ مسعود جنجوعہ کی جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک خاتون جس نے اپنے شوہر کی گمشدگی کے بعد ہمت نہیں ہاری بلکہ ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بن گئی۔ میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے۔ ان کے لہجے میں دکھ بھی تھا، عزم بھی تھا اور امید بھی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو معاشروں کو یاد دلاتے ہیں کہ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ عوامی شعور میں بھی زندہ رہتا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اس مقدمے کے قانونی اور سیاسی پہلو اپنی جگہ موجود ہیں لیکن عام پاکستانی کے دل میں اس کا تعلق ایک پاکستانی بیٹی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برسوں گزرنے کے باوجود یہ موضوع عوامی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
دنیا بھر میں انسانی حقوق کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ عالمی طاقتیں انصاف، آزادی اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتی ہیں۔ لیکن جب عام انسان ان اصولوں کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب تلاش کرتا ہے تو اکثر اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے موضوعات محض قانونی مباحث نہیں رہتے بلکہ ضمیر کی آواز بن جاتے ہیں۔
اگر کسی شخص پر الزام ہو تو اسے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ اگر جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ لیکن انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور قانونی حقوق حاصل کرنے کا حق ہو۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر مہذب معاشروں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں ابھی بھی بہت سے سوالات موجود ہیں۔ ان سوالات کے جوابات مختلف لوگوں کے پاس مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس مقدمے نے انسانی حقوق کے حوالے سے ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ بحث صرف ڈاکٹر عافیہ صدیقی تک محدود نہیں۔ یہ ان تمام پاکستانیوں کے بارے میں بھی ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری، سفارتی کردار اور انسانی وقار کے تحفظ کا سوال بھی ہے۔
آج جب میں ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان احتجاجی کیمپوں میں بیٹھنے والے لوگ دراصل اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ قانون کی حکمرانی مضبوط ہو، انصاف کا نظام بہتر ہو اور کسی خاندان کو وہ اذیت نہ سہنی پڑے جو انہوں نے برداشت کی۔
میری صحافتی اور سماجی زندگی میں بہت سے موضوعات آئے، بہت سے واقعات دیکھے، لیکن لاپتہ افراد کے خاندانوں کا درد ان موضوعات میں ہمیشہ نمایاں رہا۔ ایک ماں کا انتظار، ایک بیوی کی امید اور بچوں کی آنکھوں میں سوالات کسی بھی حساس انسان کو خاموش نہیں رہنے دیتے۔
اسی لیے میرا قلم جب بھی انسانی حقوق کے موضوع پر چلتا ہے تو اس کے پیچھے سیاسی وابستگی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا جذبہ ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کے انصاف کے نظام اور انسانی وقار کے احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ کراچی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے ایک اہم مذاکرہ منعقد ہو رہا ہے۔ ایسے پروگرام صرف ایک فرد کے مقدمے پر گفتگو کے لیے نہیں ہوتے بلکہ یہ معاشرے میں شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو اختلافات کے باوجود معاشروں کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔
بدقسمتی سے میں اس وقت راولپنڈی میں موجود ہوں اور صحت کی بعض مجبوریوں کے باعث اس تقریب میں شریک نہیں ہو سکتا۔ دل چاہتا تھا کہ میں خود وہاں موجود ہوتا، دوستوں سے ملتا اور اپنے خیالات براہ راست پیش کرتا، لیکن حالات اجازت نہیں دیتے۔
اسی لیے میں نے یہ تحریر اپنے دیرینہ دوست مظفر اعجاز صاحب کی وساطت سے بھیجی ہے۔

error: