بعض شخصیات شہرت و ناموری سے بے نیاز ہو کر خاموشی کے ساتھ دین متین کی ایسی خدمات انجام دیتی ہیں کہ ان کا ذکر اہلِ حق کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ محترم المقام الحاج عبدالرحمن یعقوب باوا رحمۃ اللہ علیہ بھی دین اسلام کے ایسے ہی گمنام مگر سچے سپاہیوں میں سے تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور اس کے پیغام کی اشاعت کے لیے وقف کر دی تھی۔ انہوں نے محض زبانی وابستگی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی طور پر اپنی کاروباری اور دنیاوی مصروفیات کو ترک کرکے اس عظیم مقصد کو اپنی زندگی کا محور اور نصب العین بنا لیا۔
خاندانی پس منظر
اور ابتدائی خدمات
حضرت الحاج عبدالرحمن باوا رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات کے ایک معزز میمن خاندان سے تھا۔ مختلف حالات کے تحت آپ نے ہندوستان، برما اور مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں قیام کیا، اور ان تمام مراحل میں بھی تحریک تحفظ ختم نبوت سے وابستگی کو برقرار رکھا۔ رضاکارانہ طور پر اس مبارک مشن میں حصہ لیتے رہے اور جہاں بھی رہے، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور اس کے پیغام کی اشاعت میں اپنی بساط کے مطابق خدمات انجام دیتے رہے۔
دارالعلوم دیوبند میں اکابر کی اجازت سے دورۂ حدیث کی کلاس میں تحفظ ختم نبوت کی اہمیت پر بڑا جاندار خطاب فرمایا،جو ان کےلئے بڑا اعزاز اور ان شاءاللہ عند اللہ قبولیت کی بڑی دلیل ہے۔
کراچی آمد اور کاروباری زندگی
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد آپ کراچی منتقل ہوگئے اور کراچی طارق روڈ پر کپڑے کا کاروبار شروع کیا۔ اگرچہ تجارت آپ کا ذریعہ معاش تھی، لیکن تحفظ ختم نبوت کا کام آپ کی زندگی کا حقیقی مقصد تھا۔ کاروباری مصروفیات کے باوجود آپ رضاکارانہ طور پر تحریک کے کاموں میں شریک رہتے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اس مقدس مقصد کے لیے صرف کرتے۔
اکابرین کا اعتماد اور زندگی کا وقف
حضرت باوا جی رحمۃ اللہ علیہ پر اکابرینِ امت کو غیر معمولی اعتماد تھا۔ سابق مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن امام اہلسنت حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب رحمہ اللہ کےحکم پر آپ نے کاروبار کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا،اور اپنی پوری زندگی مکمل طور تحریک تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف کردی۔
اس کے بعد آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے شب و روز سرگرم عمل رہے۔ کئی سالوں تک دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت، نمائش چورنگی کراچی سے وابستہ رہے،اور اسی مرکز سے اس عظیم مشن کی خدمت انجام دیتے رہے۔ آپ کی محنت، اخلاص، استقامت اور خاموش جدوجہد نے آپ کو اکابرین کا معتمد اور تحریک کا ایک قابلِ اعتماد خادم بنا دیا تھا۔
لندن ہجرت اور عالمی خدمات
بعد ازاں1996میں اکابرین کی مشاورت سے آپ لندن منتقل ہوئے اور عالمی مجلسِ تحفظ ختم نبوت ہی کے پلیٹ فارم سے خدمات انجام دیتے رہے،کچھ عرصہ پہلے بعض ناگزیر اسباب کی بنا پر ’ختم نبوت لندن اکیڈمی‘ کے نام سے اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔ لندن میں قیام کے دوران بھی آپ نے تحفظ ختم نبوت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے متعدد یورپی اور افریقی ممالک کے دورے کیے،اور اس عظیم مشن کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
زندگی کا ہر دور اسی مشن کے نام
حضرت باوا جی رحمۃ اللہ علیہ کی نوخیزی، جوانی اور بڑھاپا، زندگی کا ہر دور اسی مبارک جدوجہد میں گزرا۔
ان کی فکر، ان کی گفتگو، ان کی خواہشات اور ان کے شب و روز سب اسی عظیم مقصد کے گرد گھومتے تھے۔ عمر کے آخری حصے میں بھی ان کے اندر تحفظ ختم نبوت کا جذبہ و جنون پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا۔ پیرانہ سالی کے باوجود اس مقدس مشن کے لیے ان کا شوق، ولولہ اور لگن شباب پر دکھائی دیتی تھی۔
راقم کے مشاہدات
راقم کو سنہ 2024ء میں حضرت باوا جی رحمۃ اللہ علیہ کی رفاقت میں عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ پورے سفر کے دوران، حتیٰ کہ جدہ سے کراچی کی طویل فضائی مسافت میں بھی، حضرت والا کی گفتگو کا محور تحریک تحفظ ختم نبوت، اکابرین کی قربانیاں، اور اس عظیم مشن کے ایمان افروز واقعات تھے۔
بعد ازاں کراچی میں جب بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا، حضرت باوا صاحب والہانہ انداز میں تحفظ ختم نبوت کی خدمات اور یادگار واقعات بیان فرمایا کرتے تھے۔ بالخصوص امام اہلسنت مفتی احمد الرحمن کا ہمیشہ ذکر فرماتے اور بڑے والہانہ انداز میں فرماتے۔
ان کی گفتگو سے صاف محسوس ہوتا کہ عمر کے آخری حصے اور پیرانہ سالی کے باوجود اس عظیم مقصد کا جذبہ و جنون پوری جوانی اور شادابی کے ساتھ ان کے قلب میں موجزن ہے۔
مولانا سہیل باوا صاحب ایک عظیم صدقۂ جاریہ
اللہ تعالیٰ نے ان کی نسل میں بھی اس مبارک مشن کا تسلسل قائم فرمایا۔ ان کے فرزندِ ارجمند اور ہمارے مخلص،جانثار،اور جگری دوست مولانا سہیل باوا صاحب، جو ہم سے ایک سال بعد جامعہ کے 1997کےفاضل اور تحریک تحفظ ختم نبوت کےایک فعال و مخلص داعی ہیں، آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں سفر کر کے تحفظ ختم نبوت کا پیغام عام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے والدِ گرامی کے لیے ایک عظیم صدقۂ جاریہ ہیں،اور ان کے مشن کی روشن اور باوقار نمائندگی کر رہے ہیں۔
گمنام مگر سچا پاسبان
یہ دنیا محض ایک عارضی سفر گاہ ہے، یہاں سے ہر شخص کو گزرنا ہے، لیکن بعض شخصیات اپنے اخلاص، قربانی، استقامت اور بے لوث خدمات کی وجہ سے تاریخ میں سنہرے حروف سے یاد رکھی جاتی ہیں۔
حضرت الحاج عبدالرحمن باوا رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی گمنام مگر سچے پاسبانوں میں سے تھے، جنہوں نے نام و نمود سے بے نیاز ہو کر خاموشی کے ساتھ ایک عظیم دینی خدمت انجام دی۔ ان شاء اللہ ان کی خدمات ہمیشہ اہلِ حق کے دلوں میں زندہ رہیں گی اور تاریخ انہیں عزت و احترام سے یاد رکھے گی۔
دعا
اللہ تعالیٰ حضرت باوا جی رحمۃ اللہ علیہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی بے لوث خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ان کے فرزندِ گرامی مولانا سہیل باوا صاحب کو صبر جمیل کی توفیق نصیب فرمائےاور اپنے عظیم والد کے مشن کا صحیح وارث، امین اور بہترین جانشین بنائے، اور ان کی نسلوں میں اس مبارک خدمت کو جاری و ساری رکھے۔
آمین
یا رب العالمین
ختم نبوت کا سچا سپاہی
















