احمد امین (1886ء۔ 1954ء) کا شمار جدید دور کی ممتاز مصری شخصیات میں ہوتا ہے، مقالہ نگاری، تذکرہ نگاری، تنقید اور مسلم تاریخ نگاری ان کی دلچسپی کے خاص موضوعات ہیں۔ تاریخ کے حوالے سے احمد امین نے جو کچھ لکھا اسے اسلام کی ثقافتی اور فکری تاریخ کا نام دیا جاسکتا ہے، تاریخ کو اس نئے زاویے سے دیکھنے کی وجہ سے انہوں نے جدید مورخین میں اپنی جگہ بنالی ہے۔
احمد امین ابراہیم الطبّاخ یکم اکتوبر 1886ء کو قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ ابراہیم لگان وصول کرنے والوں کے ظلم و تعدی سے تنگ آکر گاؤں کی زندگی ترک کرکے قاہرہ آگئے تھے، انہوں نے ازہر میں تعلیم حاصل کی اور وہیں مدرس اور مسجد شافعی میں خطیب مقرر ہوئے۔ انہیں مخطوطات نقل کرنے اور کتابیں جمع کرنے کا بڑا شوق تھا، وہ کچھ عرصے تک مطبع امیریہ، قاہرہ میں تصحیح کے فرائض بھی انجام دیتے رہے وہ مختلف دینی علوم تفسیر، حدیث، فقہ، لغت اور تاریخ ادبیات سے اچھی واقفیت تھی لیکن انہیں تصنیف وتالیف کا موقع نہ ملا۔
احمد امین نے اپنی خود نوشت ’حیاتی‘ میں نہ صرف اپنے خاندان اور اپنی مشغولیات کے بارے میں لکھا ہے بلکہ اپنے عہد کے مصر کی سیاسی وسماجی تاریخ کو بھی ’حیاتی‘ میں سمولیا ہے۔ لہٰذا ان کے حالات زندگی کا سب سے اہم ماخذ حیاتی یعنی ان کی سوانح عمری ہی ہے۔ حیاتی کا اردو ترجمہ ’ میری سرگزشت‘ کے عنوان سے ہوچکا ہے۔ مترجم شیخ نذیر حسین ہیں اور کتاب مجلس ترقی ادب، لاہور سے 1979 ء(طبع اول) میں شائع ہوئی۔
14 سال کی عمر میں وہ ازہر چلے گئے جہاں مختلف اساتذہ سے علوم متداولہ حاصل کیے۔ ازہر کے دوران ِتعلیم میں وہ شیخ محمد عبدہ سے ملے اور پہلی ہی ملاقات میں ان کے گرویدہ ہوگئے۔
احمد امین ستائیس اٹھائیس برس کے تھے جب یورپ میں پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی اور ا س کے شعلے مشرق تک پہنچے۔ مصر بھی سیاسی تبدیلوں سے بچ نہ سکا۔ 1914ء میں برطانیہ نے مصر پر قبضہ کرکے وہاں اپنا انتداب قائم کیا۔ یہ انتداب 1922ء تک جاری رہا جب مصر کو محدود آزادی دی گئی۔ مصریوں پر انگریزوں کے سیاسی استعمار کا بہت برا اثر پڑا اور ان کے خلاف نفرت کا جذبہ روز بروز شدید تر ہوتا گیا۔ احمد امین سیاست میں بہت فعال نہیں تھے لیکن سعدزاغلول پاشا کے حامیوں میں تھے۔ وہ محمودفہمی النقراشی، یوسف الجندی اور صبری ابو علم کے ہم خیالوں میں تھے، یہ وہ لوگ ہیں جو آگے چل کر مصر کے نامور سیاست دانوں میں شمار ہوئے۔ تاہم احمد امین سیاست میں زیادہ فعال نہیں تھے اور اس کی وجہ انہوں نے اپنی سوانح عمری میں یہ لکھی ہے کہ ان میں شجاعت اور بہادری نہیں تھی، جس کی اس قسم کے معاملات میں ضرورت ہوتی ہے اور یہ کہ وہ حکومت کی عقوبت اور قید خانوں کی صعوبتوں کے تصور سے بھی گھبراجاتے تھے۔ ۱؎
1926ء میں جب کہ وہ محکمۃ الازبکیہ میں قاضی کے فرائض انجام دے رہے تھے، ڈاکٹر طٰہٰ حسین کی توجہ سے وہ فواد اول یونی ورسٹی (جواب قاہرہ یونی ورسٹی کے نام سے مشہور ہے) کے کلیہ آداب میں تنقیدِ ادبی کے مدرس مقرر ہوگئے۔ یہ جگہ انہیں ازہر اور مدرسۃ القضاء دونوں سے مختلف نظر آئی، مصری علماء کے علاوہ یہاں انگریزی، فرانسیسی اور اطالوی اساتذہ بھی موجود تھے جواپنے اپنے موضوع پر ماہرانہ دست رس رکھتے تھے۔ یہاں کی علمی فضا انہیں بہت راس آئی جو ان کی آئندہ علمی ترقیوں کا موجب بھی بنی۔
احمد امین کو کئی ممالک کے سفر کا موقع ملا، مثلاً ترکی، شام، عراق، فلسطین، یمن اور حجاز وغیرہ جہاں وہ مختلف علمی منصوبوں کے حوالے سے گئے۔ 1932ء میں مستشرقین کی کانگریس میں شرکت کرنے کے لیے لائیڈن گئے۔راسے میں پیرس اور لندن ٹھہرے اور وہاں کے بعض اصحاب علم سے ملاقاتیں کیں۔ 1938ء میں جامعہ قاہرہ کے نمائندے کی حیثیت سے مستشرقین کی کانگریس میں شرکت کے لیے بیلجیم گئے، اسی دوران انہوں نے اٹلی اور سوئزرلینڈ کی بھی سیاحت کی۔ ۲؎
احمد امین ادارہ ساز بھی تھے، مصر کے مشہور علمی ادارے لجنۃ التالیف و الترجمہ والنشر کے بانیوں میں تھے، اس ادارے کے قیام کا مقصد عربی زبان کی قدیم نایاب اور اہم کتابوں کی تصحیح و اشاعت تھا یہ ادارہ 1914ء میں قائم ہوا۔ آج بھی دارالکتب المصریہ کے بعد مصر کے اہم اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عربی زبان وادب اور اسلامی تاریخ پر اس ادارے سے نہایت اہم کتب شائع ہورہی ہیں اس ادارے نے عالم عرب کی ذہنی بیداری میں اہم حصہ لیا۔
ان کی تصانیف میں سب سے زیادہ قابل ذکر ان کا سلسلہ تاریخ ہے جو سات جلدوں کو محیط ہے اور جس میں انہوں نے چوتھی صدی ہجری تک کی اسلامی تہذیب وتمدن کی تاریخ لکھی ہے۔
1۔ فجرالاسلام (ایک جلد)
2۔ ضحی الاسلام (3 جز)
3۔ ظہر الاسلام (3 جز)
یہ مسلم تہذیب کی فکری تاریخ ہے اور ’موسوعۃ الحضارۃالاسلامیہ‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ فجرالاسلام 1969ء میں منظر عام پر آئی۔جس میں مولف نے صدرِاسلام اور اموی دور کے عربوں کی عقلی، فکری اور ثقافتی تاریخ کو تجزیاتی انداز میں پیش کیا ہے۔ پہلی صدی ہجری میں عربوں کی زندگی نے کتاب و سنت کے اثرات کے ساتھ فلسفہ، ادب اور فن کی آمیزش سے جو صورت اختیار کرلی تھی ان کا تجزیہ تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ۳؎
ضحی الاسلام کی تین جلدیں جو 1933ء تا 1936ء کے دوران شائع ہوئیں ابتدائی عباسی دور کے عربوں کی عقلی، اعتقادی اور ثقافتی تاریخ بیان کرتی ہیں۔ یہ بسیط موضوع افکار و معتقدات اور پیچیدہ انسانی رویوں کے اظہار پر مبنی ہے، بلاشبہ یہ کسی بھی مورخ کے لیے کڑے امتحان سے کم نہیں۔ یہ کسی لیبارٹری میں کیے جانے والے سائنسی تجربے جیسا معاملہ نہیں جہاں سے حتمی نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ انسانی رویوں کو جانچنے والی کوئی لیبارٹری نہیں، اس میں غلطی کا امکان بھی باقی رہتا ہے اور نتائج بھی غیر متبدل اور حتمی نہیں ہوسکتے۔ بہت کم مورخین نے اس ہفت خواں کو طے کرنیکی جرات کی ہے۔ ضحی الاسلام کی تینوں جلدوں میں عہد عباسی کے دور اول (یعنی 132 ھ سے تقریباً 232ھ) میں معاشرتی طبقات، علمی رنگ، ادب اور سیاست میں فارسی عناصر کا غلبہ، حریت فکراور اس میں معتزلہ کا نمایاں کردار، اس دور کا ادبی ارتقاء اور اس میں معتزلہ، شیعہ اور خوارج کے مخصوص و منفرد رجحانات کے اثرات وغیرہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ۴؎
اس سلسلے کی آخری کڑی ’ظہرالاسلام‘ ہے۔ جس کی تین جلدیں 1945ء سے 1953ء کے درمیان شائع ہوئیں۔ اس کے اگلے برس احمد امین وفات پاگئے، شایدان جلدوں میں اضافہ ہوتا اگر ان کی زندگی نے وفا کی ہوتی۔ظہر الاسلام میں مولف نے عباسیوں کے دوسرے دور (۲۳۳ھ/ ۸۴۷ء تا ۴۱۲ھ/ ۱۰۲۲ء) کی سماجی، عقلی زندگی، علمی و ادبی تحریکات اور دینی فرقوں کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ ظہر الاسلام میں پچھلے موضوعات کی وضاحت اس انداز سے کی گئی ہے کہ مضمون پوری طرح مکمل اور نوعیت پوری طرح واضح ہوجائے۔ احمد امین کا خیال ہے کہ فکر اسلامی میں معتزلہ کو اہم مقام حاصل ہے۔ انہوں نے ہی سامی اور آریائی افکار کے طوفان کا مقابلہ کرکے فکرِ اسلامی کے مزاج کو پروان چڑھایا۔ مولف نے اس دور میں پائے جانے والے رجحانات کو پانچ اقسام میں تقسیم کرنے کے امکانات کی بات کی ہے یعنی: (1) معتزلہ، (2) اہل السنہ، (3) شیعہ، (4)خوارج اور (5) مرجیہ۔ انہوں نے ظہر الاسلام میں ان مختلف افکار و رجحانات اور نظریات و اعقادات پر طویل بحث کی ہے۔
سلسلہ تاریخ کے لیے انہوں نے صرف عرب اور مسلمان مورخین کی تصانیف ہی سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ مستشرقین سے بھی استفادہ کیا۔ یہ کہنا کہ وہ مستشرقین سے غیر معمولی طور پر متاثر تھے، درست نہیں۔ وہ مسلمانوں کی تاریخ کا عہد وار تجزیہ کرتے ہوئے قدیم وجدید مآخذ کو استعمال کرتے ہیں، البتہ حوالے میں طباعتی یا اشاعتی تفصیل نہیں دیتے جس کی وجہ سے مراجعت دشوار ہوجاتی ہے۔
اپنے اسلوب میں احمد امین طوالت پسند ہیں، چند جملوں کی بات کو بھی وہ دوتین پیراگراف تک طول دے دیتے ہیں اور یہ بات اس عہد کے مصری ادیبوں میں ہمیں مشترک نظر آتی ہے۔
احمد امین کے ادبی، علمی تنقیدی، تاریخی اور سماجی موضوعات پر مضامین و مقالات کا مجموعہ ’ فیض الخاطر‘ کے عنوان سے آٹھ جلدوں میں لجنۃ التالیف والترجمہ والنشر، قاہرہ سے 38۔1937ء میں شائع کیا گیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بقیہ مقالات دو جلدوں میں 56۔1955ء میں شائع ہوئے۔
احمد امین کی دیگر ہم کتب میں ’النقد الادبی‘ (قاہرہ، 1952ء)، ’اِلیٰ ولدی‘(بیٹے کے نام لکھے گئے خطوط کا مجموعہ)، زعماء الاصلاح فی العصرالحدیث، (قاہرہ، 1948ء) اس میں انہوں نے عصر جدید کے دس مصلحین کا تذکرہ لکھا ہے (اس کتاب کا اردو ترجمہ شیخ نذیر حسین نے کیا اور ادارہ معارف اسلامی نے شائع کیا)اور ان کی خود نوشت ’حیاتی‘ (قاہرہ، 1950ء) شامل ہیں۔ آخر الذکر کتاب صرف ان کی ذاتی زندگی ہی کو محیط نہیں بلکہ مصر کی نصف صدی کی زندگی، تصورات وتحریکات کی اہم دستاویز اور مفید ذریعہ معلومات ہے۔ مصری زندگی کے بعض پہلوؤں کے متعلق اس کتاب میں دلچسپ اشارے ملتے ہیں، ازہر کی تعلیم کے نقائص بھی کھول کر بیان کیے ہیں جس نے انہیں اپنے وطن میں تعلیمی اصلاحات کی طرف مائل کیا۔
تاہم احمد امین کا سلسلۂ تاریخ سب سے زیادہ مشہور ہوا ہے۔ ۵؎ ڈاکٹر زکی المحاسنی لکھتے ہیں: ’’احمد امین کی یہ کاوش ہماری جدید فکری زندگی کے لیے ایک گراں مایہ قدر سرمایہ اور ان موضوعات پر لکھنے والوں کے لیے ناگزیر مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں جن میں انھوں نے نہایت دیانت اور سنجیدگی کے ساتھ حقیقت کی جستجو کی ہے۔‘‘ ۶؎
ڈاکٹر مصطفی السباعی کے خیال میں : ’’فجر الاسلام‘‘ اور ’’ضحی الاسلام‘‘ اسلامی تہذیب کے ابتدائی ادوار میں علم و ثقافت کی تاریخ پر لکھی گئی جدید دور کی نمایاں ترین کتب میں شمار ہوتی ہیں۔‘‘
حواشی:
۱۔ دیکھیے: احمد امین کی خود نوشت ’حیاتی‘، اردو ترجمہ: شیخ نذیر حسین ، مجلس ترقی ادب ، لاہور، طبع اوّل، ۱۹۷۹ء
۲۔ ایضاً
۳۔ دیکھیے: فجر اسلام، مکتبۃ النھضۃ المصریہ، قاہرہ، ۱۹۶۵ء (الطبعۃ العاشرہ)
۴۔ دیکھیے: ضحی الاسلام، مکتبۃ النھضۃ المصریہ، قاہرہ، ۱۹۳۳ء (الطبعۃ التاسعۃ)
۵۔ سلسلۂ تاریخ کی ابتدائی 4جلدوں کا اردو ترجمہ زیر ِ طبع ہے ، جو ادارہ قرطاس، کراچی سے عنقریب شائع ہوگا۔ مترجمین میں ظہیر الدین بھٹی، ریحان عمر اور نگار سجاد ظہیر شامل ہیں۔
۶۔ ڈاکٹر زکی المحاسنی، ’محاضرات عن احمد امین‘، قاہرہ ، ص ۷۱
۷۔ التاریخ کما یحب ان یکون
https://historyasitshouldbe1987.blogspot.com
2014/10/blogspot_14.html
احمد امین اور ان کا سلسلۂ تاریخ
















