ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ہونے والا تاریخی دفاعی معاہدہ خطے کے بدلتے ہوئے سیکیورٹی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس معاہدے نے نہ صرف تینوں ممالک کے باہمی دفاعی تعاون کو ایک نئی سمت دی ہے بلکہ مسلم دنیا کے درمیان مشترکہ سلامتی اور علاقائی تعاون کے حوالے سے ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔
اس پیش رفت کے تناظر میں ترک پارلیمان کے رکن، نیٹو پارلیمانی اسمبلی کے رکن اور پاکستان-ترکیہ پارلیمانی دوستی گروپ کے چیئرمین علی شاہین کا وہ وژن بھی قابلِ توجہ بن گیا ہے جس کا اظہار انہوں نے تقریباً تین سال قبل کیا تھا۔
علی شاہین پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کے ایک پرجوش اور مستقل حامی رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ان کا تعلق محض سفارتی یا پارلیمانی نوعیت کا نہیں۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کئی مواقع پر کیا ہے۔ وہ خود کو ’’پاکستان کا بیٹا‘‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔
ترکیہ اور پاکستان کے درمیان سیاسی، پارلیمانی، دفاعی اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے حوالے سے علی شاہین کی سرگرمیاں گزشتہ کئی برسوں سے نمایاں رہی ہیں۔
2023 میں ایک مختلف وژن
14 اگست 2023 کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر علی شاہین نے ترکیہ اور پاکستان کے مستقبل کے تعلقات اور مسلم دنیا کے مسائل کے حوالے سے ایک جامع وژن پیش کیا تھا۔
انہوں نے ترکیہ اور پاکستان کو مسلم دنیا کے ’’جڑواں بیٹوں‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اس ضرورت پر زور دیا کہ مسلم ممالک کو اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنے امن اور سلامتی کے میکانزم تشکیل دینے چاہئیں۔
ان کا بنیادی موقف یہ تھا کہ مسلم دنیا کے مسائل کا حل ہمیشہ ایسے سیکیورٹی ماڈلز میں تلاش نہیں کیا جاسکتا جو خطے کی اپنی ضروریات کے بجائے بیرونی طاقتوں کے مفادات کے تحت تشکیل دیے گئے ہوں۔
علی شاہین نے اس سلسلے میں ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ایک ایسے مشترکہ سیکیورٹی میکانزم کی ضرورت پر زور دیا تھا جو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دے بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرسکے۔
ان کے وژن میں دفاعی تعاون کے ساتھ اسلامو فوبیا کے خلاف جدوجہد، مسلم دنیا کے سیاسی و سفارتی اثر و رسوخ میں اضافہ اور عالمی سطح پر اسلامی اقدار کی مؤثر نمائندگی جیسے پہلو بھی شامل تھے۔
اس وقت یہ ایک سیاسی اور اسٹریٹجک وژن تھا، لیکن آنے والے برسوں میں ترکیہ اور پاکستان کے دفاعی تعاون نے عملی سطح پر بھی کئی نئے رخ اختیار کیے۔
گوادر سے دفاعی ٹیکنالوجی تک
20 ستمبر 2025 کو پاک ترکیہ درمیان دفاعی ٹیکنالوجی کے تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے حوالے سے ایک تصور سامنے آیا جس میں گوادر پورٹ پر مشترکہ SİHA/UCAV اور فضائی دفاعی مرکز کے قیام کی تجویز بھی شامل تھی۔
یہ تصور اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم تھا، کیونکہ اس میں ترکیہ کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی، پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور گوادر کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت کو ایک مشترکہ فریم ورک میں دیکھا گیا۔
اگرچہ یہ تجویز بذاتِ خود کوئی باقاعدہ بین الحکومتی معاہدہ نہیں تھی، تاہم اس نے یہ ضرور ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات روایتی عسکری تعاون سے آگے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ صلاحیتوں اور دفاعی پیداوار کی سمت میں بھی بڑھ رہے ہیں۔
فروری 2026 میں سعودیہ کا ذکر
5 فروری 2026 کو یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر علی شاہین نے اپنے اسی تصور کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کیا۔
انہوں نے ایک میڈیا پلیٹ فارم پر گفتگو میں کہا ’’مسلم محلے کے مسائل، مسلم محلے کے بچوں کے ہاتھوں، مسلم میکانزم کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔ ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب‘‘
ان کا یہ مختصر سا جملہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ اس میں ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کا بھی واضح ذکر موجود تھا۔
اس وقت شاید یہ ایک سیاسی تصور اور مستقبل کی سمت کی نشاندہی محسوس ہوتا تھا، لیکن چند ماہ بعد مکہ مکرمہ میں انہی تین ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ سامنے آیا۔
مکہ مکرمہ سے ایک نئی شروعات
7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے نے تینوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی مضبوط دفاعی تعلقات رکھتے ہیں، جبکہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان بھی گزشتہ برسوں کے دوران دفاعی صنعت، فوجی تربیت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
اب ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت اور خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی، پاکستان کی عسکری صلاحیت اور اس کا جغرافیائی محلِ وقوع، جبکہ سعودی عرب کی معاشی اور تزویراتی اہمیت ایک ایسے تعلق میں جمع ہو رہی ہے جس کے مستقبل میں وسیع امکانات ہوسکتے ہیں۔
یہ معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود رہے گا یا آگے چل کر ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل اختیار کرے گا، اس کا انحصار آنے والے دنوں میں اس کے عملی نفاذ پر ہوگا۔
کیا یہ علی شاہین کے
وژن کی تکمیل ہے؟
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مکہ معاہدہ براہِ راست علی شاہین کے 2023 یا 2025 میں پیش کیے گئے تصورات کا نتیجہ ہے۔ اس نوعیت کے بین الاقوامی معاہدے ریاستی سطح پر طویل سفارتی، سیاسی اور دفاعی مشاورت کے بعد وجود میں آتے ہیں۔
تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ مکہ معاہدے اور علی شاہین کے گزشتہ برسوں کے مؤقف میں کئی بنیادی نکات مشترک ہیں۔
مسلم ممالک کے درمیان زیادہ مضبوط تعاون، اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل اور سیکیورٹی کے میدان میں باہمی شراکت داری—یہ وہ تصورات ہیں جن پر علی شاہین مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔
آج مکہ مکرمہ میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا ایک دفاعی فریم ورک میں آنا انہی تصورات کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
یہاں اصل اہمیت صرف اس بات کی نہیں کہ معاہدہ طے پا گیا ہے، بلکہ اس بات کی ہے کہ اب تینوں ممالک اسے عملی طور پر کس حد تک آگے لے جاتے ہیں۔
اگر دفاعی تربیت، ٹیکنالوجی، مشترکہ صلاحیتوں اور دیگر شعبوں میں شراکت داری مستحکم ہوتی ہے تو یہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم تزویراتی رابطے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
علی شاہین کا 2023 کا وژن آج مکہ مکرمہ کے اس معاہدے کے تناظر میں ایک نئے زاویے سے دیکھا جارہا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا وژن تین ریاستوں کے معاہدے میں تبدیل ہوگیا، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جن اصولوں—مسلم ممالک کے باہمی تعاون، علاقائی سلامتی اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد—کی وہ برسوں سے بات کرتے رہے، وہ آج خطے کی بدلتی ہوئی حقیقت میں زیادہ نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔
مکہ مکرمہ سے شروع ہونے والا یہ نیا باب اب اس بات کا منتظر ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب اسے محض ایک دفاعی معاہدے تک محدود رکھتے ہیں یا اسے ایک وسیع تر علاقائی تعاون کی بنیاد بناتے ہیں۔
اور شاید یہی وہ مرحلہ ہے جہاں 2023 کا ایک وژن، 2025 کی دفاعی سوچ اور 2026 کا مکہ معاہدہ ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب دکھائی دیتے ہیں۔
ترکیہ‘ پاکستان‘ سعودی عرب: دفاعی تعاون خطے میں نئی امید
















