Advertisement

چوروں کی حکومت مسترد کریں

یہ 1819 کی بات ہے کہ انگریز شاعر اور صحافی لی ہنٹ Leigh Hunt نے ایک نئی اصطلاح coin کی۔ یہ اصطلاح تھی kleptocracy ۔ یہ یونانی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ تھا ۔ پہلا لفظ تھا klepto جس کا انگریزی ترجمہ theft یعنی چوری ۔ دوسرا لفظ ہے cracy جس کا انگریزی ترجمہ ہے rule یعنی حکومت۔ اس کا مجموعی طور پر انگریزی میں ترجمہ ہے rule by thieves تو اس اصطلاح کا آسان اردو ترجمہ بنتا ہے چوروں کی حکومت ۔ لی ہنٹ نے یہ اصطلاح اُس زمانے میں ہسپانیہ کی حکومت کے لیے استعمال کی تھی ۔ کلیپٹوکریسی کے بارے میں اے آئی سے پوچھیں تو وہ اس کی مندرجہ ذیل خصوصیات بتاتا ہے۔
وسائل کی لوٹ مار: حکمران طبقہ سرکاری فنڈز، ٹیکس کا پیسہ اور قدرتی وسائل چوری کرتا ہے۔
کرپشن کا راج: رشوت خوری، کلفٹ (عہدوں کا غلط استعمال) اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانا عام ہوتا ہے۔
بیرون ملک جائیدادیں: چوری کیا گیا پیسہ اکثر غیر ملکی بینک اکاؤنٹس یا بیرون ملک جائیدادوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
قانون کا کمزور ہونا: احتساب کے ادارے یا تو ناکام ہوتے ہیں یا پھر حکمرانوں کے ماتحت ہوتے ہیں۔
عوام کی بدحالی: اس نظام کے نتیجے میں ملک میں غربت بڑھتی ہے اور بنیادی ڈھانچہ (جیسے تعلیم اور صحت) تباہ ہو جاتا ہے۔
کلپٹو کریسی کو ذرا گہرائی میں جا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ محض ایک اصطلاح نہیں ہے بلکہ جمہوریت ، آمریت ، مارشل لاء یا بادشاہت کی طرح کا ایک طرز حکومت ہے بلکہ اس کے لیے زیادہ موزوں لفظ نظام حکومت ہے جس میں ریاست میں موجود طاقت کے سارے منبع ایک کلب کی صورت اختیار کرجاتے ہیں ۔ اس نظام حکومت میں بدعنوانی کوئی جرم نہیں ہوتی بلکہ یہ اس کلب کے ارکان کا حق ہوتا ہے ۔ اس کے تحت ساری ہی قانون سازی کی جاتی ہے اور عدالتی فیصلے کیے جاتے ہیں ۔ اہم پالیسیاں ، ملکی اور غیر ملکی معاہدے اور مالیاتی فیصلے اسی سمت میں کیے جاتے ہیں ۔ اس نظام حکومت میں ریاستی طاقت کا استعمال عوام کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ ان کے وسائل نکال کر حصے بخرے کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔
اس نظام حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جاتا ہے جس میں فائدہ اٹھانے والوں کا باقاعدہ ایک طبقہ وجود میں لایا جاتا ہے ۔ اس طبقہ میں بیوروکریسی ، ملٹری کریسی ، عدلیہ ، صحافی غرض ہر وہ گروپ شامل ہوتا ہے جو ضرر کا باعث بن سکتا ہے ۔ پھر یہ سب مل کر گدھ کی طرح عوام کو نوچتے کھسوٹتے ہیں اور ایک دوسرے کی ڈھال ہوتے ہیں ۔
اس نظام حکومت میں بدعنوانی کوئی انفرادی فعل یا اتفاقی طور پر نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت منظم طریقہ سے کی جاتی ہے ۔
اس تمہید کے بعدسندھ حکومت کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ہر جگہ ایک سسٹم بنادیا گیا ہے ۔ آپ اس سسٹم کو اس کی منہ مانگی رقم دیں اور جو چاہیں کام کروالیں ۔ یہ کام عدلیہ میں انصاف کو خریدنے سے لے کر کسی کی بھی زمین پر قبضہ تک ہوسکتا ہے ۔ آپ کو کوئی بھی جائز یا ناجائر کام کروانا ہے ، جب تک اس سسٹم سے رجوع نہیں کریں گے ، کچھ بھی نہیں ہوگا ۔
سندھ کا حال سب سے زیادہ ہی برا ہے ورنہ کسی نہ کسی صورت میں یہ نظام پورے ملک میں نافذ ہے ۔ وفاقی سطح پر آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے اس کی بہترین مثال ہیں ۔ آج کے دور میں ہم اس نظام حکومت یعنی کلپٹو کریسی کو پٹرول کی قیمت کے یومیہ تعین سے دیکھ سکتے ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ اس کے کیا اثرات ہیں ۔ سب پوچھ رہے ہیں کہ پٹرول کی قیمت کے یومیہ تعین کے لیے کوئی ایک دلیل تو دیں ۔ اب تک پٹرول کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے ، اس کا کوئی ایک جواز تو پیش کریں ۔ اس کے نتیجے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا جارہا ہے اور اس کا نتیجہ دودھ ، آٹے ، ٹرانسپورٹیشن اور دیگر چیزوں کی لاگت پر پڑ رہا ہے ، اسے تو دیکھیں ، مگر کہیں پر کوئی جواب نہیں ہے ۔ اس پر کوئی بھولے بھٹکے آواز نکال لے تو نکال لے ،ورنہ ہر طرف ایک خاموشی ہے ۔ جماعت اسلامی نے اس کے حوالے سےاحتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ وہ پٹرول پر ٹیکس کی بات کر رہے ہیں۔ باقی رہی پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو وہ تو کلپٹو کریسی کا ہی حصہ ہیں ۔ رہی جمعیت علماء اسلام تو وہ بھی اس دسترخوان سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔
ویسے برسبیل تذکرہ ، آج کل مین اسٹریم میڈیا کو جس طرح سے وفاقی حکومت کو ٹارگٹ کرنے کی ہدایات آئی ہوئی ہیں ، اس سے لگتا ہے کہ ملک میں جلد ہی regime change آنے والا ہے ۔ مگر اس کا مطلب کہیں سے بھی یہ نہیں ہے کہ کلپٹو کریسی بھی تبدیل ہوجائے گی ۔ یہ محض مہروں کی تبدیلی ہو گی ۔
ایک بات پر اور بھی غور کیجیے گا کہ کسی بھی ملک میں عوام کی خوشحالی کی وجہ اس ملک کے وسائل نہیں ہیں ۔ نائجیریا ، سوڈان کو دیکھ لیں ۔ نائیجیریا میں تیل نکلتا ہے مگر کلپٹو کریسی کے نتیجے میں وہاں پر ساری دولت ایک طبقے کے ہاتھ میں مرتکز ہوگئی ۔ جنرل سانی اباچا اور اس کے ہمنواؤں نے ساری دولت لوٹ کر غیر ملکی بینکوں میں رکھی ، بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور عوام بھوکے مرتے رہے ۔ سوڈان میں تو براہ راست سونا نکلتا ہے ۔بیرونی طاقتوں کےایماء پر دو جنرلوں کی لڑائی نے وہاں کے عوام کو عبرت بنا دیا ہے ۔ نہ عزت محفوظ ہے اور نہ جان ۔ اب تک دسیوں لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں ۔ ویسے ایک بات پر اور غور کیجیے گا کہ ملٹری راج صرف اور صرف مسلمان ممالک میں ہی ہے اور مسلمان ممالک ہی مفلوک الحالی ، خانہ جنگی اور قحط کا شکار ہیں ۔
سوچیے ، ذرا نہیں پورا سوچیے ۔ اگر نائیجیریا ، سوڈان یا اسی طرح کا کوئی ملک نہیں بننا ہے تو میرا چور اچھا ہے اور تیرا چور برا ہے کی پالیسی کو ترک کیجیے ۔ چور کو چور کہیے چاہے وہ جو بھی ہو اور چوروں کی حکومت سے انکار کیجیے، چاہے وہ کسی کی بھی ہو ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور دوسروں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

error: