وہ بوڑھا کس قدر عجیب تھا۔ سبز کرتا اور سفید شلوار پہنے۔ دونوں میں قیمتی، مخملیں کپڑے اور ٹاٹ کے پیوند لگے ہوئے۔ جن پر جگہ جگہ خون کے دھبے۔ مٹی کے نشان۔ چاندی سے بالوں میں گرد بھری۔ بڑی بڑی خوب صورت آنکھوں میں ویرانی کا ڈیرا، اُداسی کے سائے۔ دائیں ہاتھ میں کاغذات کی ایک تَھپّی، یوں تھامے ہوئے جیسے وہ زرد پَنّے کوئی بہت قیمتی دستاویز ہوں۔ وہ سوچوں میں مگن چلا جا رہا تھا۔
میں نے موٹرسائیکل روک کر پوچھا، ”کہاں جانا ہے بابا!“ جواب ملا، ”یہی تو نہیں پتا۔“ ”آپ کے کہیں آگے تک چھوڑ دوں۔“ اس کے پراسرار جواب کو نظرانداز کر کے میں نے پھر پوچھا۔ ”سب آگے لے جانے کا کہہ کر کہیں بہت پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔“ یہ جواب بھی بھید بھرا تھا۔ ”اچھا بھوک لگی ہو تو آپ کو کچھ کھلا دوں۔ وہ قریب ہوٹل ہے۔“ یہ پیش کش میں نے صرف اس لیے کی کیونکہ میری دل چسپی اس میں بڑھ گئی تھی، میں اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ ”میں تو خود کھانے کے لیے ہوں۔“ لو۔ ایک اور ٹیڑھا جواب۔ ”اچھا آپ سے کچھ دیر بات ہو سکتی ہے۔“ میری گزارش پر وہ مسکرایا۔
”ہاں ہاں کرلو باتیں، تحقیق وحقیق کرلو، پھر مجھے غلط یا صحیح ثابت کرنے کے لیے کتاب وتاب لکھ ڈالنا۔ دونوں صورتوں میں پیسہ اور شہرت ملنے کا امکان ہے۔“
ہم دونوں ایک پیڑ کے سائے تلے اُکڑوں بیٹھ گئے۔ ”اپنا نام تو بتائیں۔“ ”وہ تو تم جانتے ہو، کچھ اور پوچھو۔“ سوچا نام بتانے سے کترا رہا ہے، دوسرا سوال داغ دیا۔ ”کیا کرتے ہیں۔“ ”کبھی میرا خوابوں کا کارخانہ تھا۔ پھر لوگوں نے خواب لینا بند کر دیے۔ اب امید بناتا ہوں، بانٹتا ہوں۔“ وہ دھیمے لہجے میں بولتا رہا۔ ”آپ کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آ رہیں۔ کیا آپ دانشور ہیں؟“ میں جھنجھلا گیا تھا۔ ”ہاہاہا۔ نہیں۔ میں۔ پاکستان ہوں۔“ اس کے قہقہے کی گونج تھمتے ہی آواز نے دبیز سنجیدگی اوڑھ لی۔ ”پاکستان۔ مطلب والدین نے آپ کا نام پاکستان رکھا۔ واہ بھئی، کیا محب وطن لوگ تھے۔“ میں جھوم اٹھا، بلاگ لکھنے کے لیے ایک مزے دار موضوع مل گیا تھا۔
”نہیں یہ مطلب نہیں۔ جو تم نعرے لگاتے ہو پاکستان کا مطلب کیا۔ سب سے پہلے پاکستان۔ پاکستان کھپے۔ وہی والا پاکستان۔“
اس نے ایسے مستحکم لہجے میں یہ بے پر کی اُڑائی کہ کچھ دیر کو تو میں شک میں پڑ گیا۔ آخر سوچا پاگل ہے بے چارہ۔
”یہ حال تم سب نے مل کر کیا ہے۔ خواص کو تو چھوڑو تم عام لوگ بھی کچھ کم ہو کیا۔ تیری وادی وادی گھوموں گاتے ہوئے جاتے ہو اور میری صاف ستھری شاداب وادیوں مٰیں کوڑا پھیلا کر آ جاتے ہو۔“
بڑے میاں غصے میں آ گئے تھے۔ ”اچھا یہ داغ کیوں؟“ میں نے ان کے لباس پر لگے خون کے دھبوں کی طرف اشارہ کیا۔ ”تم لوگ کہتے ہو داغ تو اچھے ہوتے ہیں، پھر داغوں پر پریشانی کیسی!“ شاید وہ جواب دینے سے گریزاں تھا۔ ”لگتا ہے آپ قصاب ہیں۔ گائے، بکرا، مرغی۔ کس کے؟“ ”میں جو کرتا ہوں بتا چکا۔ یہ کسی جانور کا نہیں انسانوں کا خون ہے۔“ آواز میں درد گُھل گیا۔ اب مجھے اس سے کچھ ڈر لگنے لگا۔ ”کیا مطلب۔ کن انسانوں کا؟“
”میرے بیٹوں کا۔ میرے پیارے بیٹوں کا۔ میرے پاس بیٹوں کے خون سے تر کُرتے آتے ہیں تو وہ خالی نہیں ہوتے ان میں چھلنی چھلنی ہو جانے والے، لُہو رِستے سینے ہوتے ہیں۔“
اس کی آنکھوں میں پانی اتر آیا۔ آنسو رخساروں کی جُھریوں میں راستہ بنانے لگے۔ ”اوہ۔ اتنی برساتوں میں تو یہ خون کے دھبے دُھل جانے چاہئیں تھے۔“ میری بات سُن کر اس نے نظریں اٹھائیں اور مجھے یوں دیکھا کہ میں لرز اُٹھا۔ ”برسات ہوتی ہے، دھبے دُھل جاتے ہیں، مگر پھر نئے بیٹے، نیا خون۔“ مجھے لگا لفظ نہیں اس کے ہونٹوں سے خون ٹپک رہا ہے۔ ”اچھا آپ رہتے کہاں ہیں۔“ میں نے موضوع بدلنا چاہا۔ ”نازک موڑ پر یا یوں ہی گردش میں، جیسے ابھی دوران گردش تمھیں مل گیا۔“ ”ارے گھر تو ہو گا۔“ میں نے اُکتا کر پوچھا۔
”سارے گھر میرے ہیں، جھونپڑیاں، کچے گھر، چھوٹے چھوٹے گُھٹے ہوئے مکان، فلیٹ، دور تک پھیلی کوٹھیاں، حویلیاں سب۔“
اس کا ہر جواب جنون اور دانش کے درمیان جھول رہا تھا۔ ”یہ آپ کے ہاتھوں میں دستاویز کیسی ہے۔“ میری نظر اچانک اس کے ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑے ہوئے کاغذات پر گئی۔ ”یہ آئین ہے۔ میں اسے پتھروں پر لکھ کر محفوظ کر دینا چاہتا ہوں، اس لیے ساتھ لیے گھوم رہا ہوں۔“ اس کی گرفت کاغذات پر اور بھی مضبوط ہو گئی۔ ”آپ کو آئین کے تحفظ کی اتنی فکر کیوں ہے بھئی۔“ میں نے اسے کُریدا۔ ”کیوں کہ آئین محفوظ تو میں محفوظ۔“ ایک اور بے تکا جواب۔ ”ابھی کہاں سے آرہے ہیں؟“ میں نے یہ سوچ کر پوچھا کہ وہ کوئی تو ڈھنگ کا، معقول جواب دے گا۔ ”ابھی میں کچھ نوجوانوں کے پاس بیٹھا تھا، وہ دور گلی کے نکڑ پر۔“ اس نے ہاتھ سے اس طرف اشارہ کیا جدھر سے وہ آتے ہوئے مجھے ملا تھا۔ ”کیا بات ہوئی ان نوجوانوں سے۔“ میں خوش ہو گیا تھا کہ اس نے کوئی سمجھ میں آنے والی بات کی، اب یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔
”کہہ رہے تھے پاکستان نے ہمیں کیا دیا، پاکستان سے ہمیں کیا ملا، ملک چھوڑ دینے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔“
اس کے لبوں پر مسکراہٹ نے ڈیرا ڈالا۔ ”انھیں ایک جھانپڑ دیتے۔“ میری حب الوطنی جوش کھا گئی۔ ”افسوس تمھاری سوچ بھی ان جیسی ہے جو۔“ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ ”کن جیسی؟“ میں نے سمجھتے ہوئے بھی نہ سمجھنے کا تاثر دینے کی سمجھ داری کی۔ ”واقعی اتنے بھولے ہو؟ خیر چھوڑو۔“ ”چلیں یہ بتائیں کہ آپ نے انھیں کیا جواب دیا۔“ میں نے بات آگے بڑھائی۔
”ان کے شکوے شکایت کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، بس اتنا کہا۔ مت جاؤ یار۔ مجھے چھوڑ کر کہیں مت جاؤ۔“
پیڑ کے نیچے اکڑوں بیٹھا ”پاکستان“ ہچکیاں لے کر رونے لگا۔
لیکن اگلا منظر حیران کُن تھا۔ قریب بنی جھونپڑیوں میں سے کچھ پھٹے حال بچے باہر نکل آئے تھے، ان کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم کے رنگوں کی چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں تھیں، ایک دکان پر لگے ڈیک پر جوش و جذبے سے بھرا ایک قومی نغمہ گونج اٹھا، اور بچے پورے بے ڈھنگے پن کے ساتھ ناچنے، ہنسنے کھلکھلانے لگے۔ بوڑھے نے آنسو پونچھے، اس کا چہرہ کِھل اُٹھا، خوشی جیسے اس کی آنکھوں سے نکل کر پورے وجود پر بہنے لگی، وہ اٹھا اور دوڑتا ہوا بچوں کے پاس پہنچ کر اسی بے ڈھنگے پن سے رقص کرنے لگا۔
میں وہاں سے اٹھا اور گھر کی طرف چل پڑا، پورے راستے سوچتا رہا، ”پتا نہیں کون ہے یہ بوڑھا؟“
’پیڑ کے نیچے اُکڑوں بیٹھا‘ پاکستان
















