Advertisement

آزادی مشاعرہ اور عافیہ کی آزادی

اس خطہ وطن کے ہر فرد کو” جشن آزادی مبارک“ ہو۔اگست کا مہینہ پاکستان کی برطانوی سامراج اور ہندو تسلط سے آزادی کا مہینہ ہے۔ آزادی کی نعمت اور اہمیت کو وہی قومیں جانتی ہیں جو غلام رہی ہوں۔مزاحمتی شاعری نے ہمیشہ آزادی کی تحریکوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تحریک پاکستان میں علامہ اقبال ؒ کے علاوہ ان گنت شعراءتھے جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے تحریک آزادی میں ایسی روح پھونکی جو قیام پاکستان کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچی۔آزادی کی جدوجہد کے دوران بشیراحمد کی یہ نظم بے حد مقبول ہوئی تھی ”ملّت کا پاسباں ہے، محمد علی جناح… ملّت ہے جسم، جاں ہے، محمد علی جناح“ اور مولانا ظفر علی خان کی نظم ”جناح کی صدا اور ہے، گاندھی کی کتھا اور… بطحا کی فضا اور ہے، وردھاکی ہوا اور“اسی طرح تحریک آزادی کے جلسوں میں یہ نعرہ اور شعر بہت مقبول ہوا”بٹ کے رہے گا ہندوستان… لے کے رہیں گے پاکستان“۔
اور پاکستان کا مطلب کیا ،لا الہ الا اللہ۔
ہمیں تو 14 اگست ،1947کوقائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت اور تحریک پاکستان کے مخلص اور جانثار اکابرین کی طویل اور صبرآزما جدوجہد کے نتیجے میں آزادی کی نعمت حاصل ہوگئی۔ آج کی سوشل میڈیا کی دنیا میں آزادی کا دائرہ وسیع ہونے کے بجائے سکڑتا جارہا ہے۔بنیادی انسانی حقوق اور انصاف ہر شہری کا حق ہے۔ شہر کھنڈر بنائے جا رہے ہیں اور ریاستوں کی جانب سے انصاف کے حصول کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جارہی ہیں۔ ایسے ماحول میں گلوبل عافیہ موومنٹ نے آزادی کی اہمیت بطور نعمت اجاگر کرنے کیلئے آزادی کے مہینے اگست میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائش گاہ پر ”آزادی مشاعرہ“ کا انعقاد کیا، جس کی صدارت جناب انور شعور نے کی اور جس میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر عافیہ کے سپورٹرز نے شرکت کی ۔مشاعرے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جن نامور شعراءنے اپنا کلام پیش کیا ان میں جناب فراست رضوی، جناب محمود غزنوی ، جناب خالد معین، جناب اختر سعیدی، جناب سلیم فوز، جناب حکیم ناصف، جناب فرخ اظہار، جناب عثمان جامعی، جناب صاحبزادہ عتیق،جناب قاضی دانش صدیقی، محترمہ ناہید عزمی، محترمہ یاسمین یاس، محترمہ شازیہ عالم شازی، جناب نعیم الدین نعیم جبکہ نظامت کے فرائض جناب خلیل اللہ فاروقی اور محترمہ صائمہ اسحاق نے انجام دیئے۔
شعراءکرام نے اپنے کلام کے ذریعے جذبہ حب الوطنی کی اہمیت کو انتہائی احسن انداز میں اجاگر کیا مگر ساتھ ہی ملک کی موجودہ صورتحال پر جس میں عام شہری بنیادی انسانی حقوق اور انصاف سے محروم نظر آرہا ہے ، افسوس کا اظہار بھی کیا۔ چند شعراءنے اپنے اشعارکے ذریعے کراچی کی دگرگوں حالت اور اسے نظر انداز کرنے کی پالیسی پر دکھ کا اظہار بھی کیا۔
مقام رنج یہ ہے کہ اسی وطن عزیز کی ایک بہادر بیٹی 23 برس سے، امریکہ میں قید، اذیت اور ہر طرح کے انسانی حقوق سے محرومی کی زندگی گزار رہی ہے۔شعراءکرام نے اپنے کلام کے ذریعے عافیہ اور ان کے اہلخانہ سے یکجہتی اور بعض نے شرمندگی کا اظہار بھی کیا ۔اس موقع پر عافیہ موومنٹ کے رضاکاروں نے ایک اسٹال بھی لگایا جہاں تمام شعراءاور حاضرین مجلس نے آن لائن پٹیشن پر دستخط کرکے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے سول حکومت کی مدد اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی۔ اس موقع پر ہر فرد اس بات کا قائل نظر آیا کہ ”ہمارا ہی نہیں حکومت وقت کا بھی فرض ہے کہ عافیہ جیسی عظیم اسلامی اقدار کی حامل بیٹی کو رہائی دلانے کے لئے آواز بلند کرے“۔
ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے تمام شعرائے کرام اور حاضرین مجلس کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کو آٹھ دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں ۔ میرے والدین اور ان کے آباءنے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ ان کی حب الوطنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میرے والدین کی نصیحت تھی کہ غیر ملکی شہریت حاصل مت کرنا ، جس پر میں نے اورمیری بہن عافیہ نے عمل کیا ، میں آج اسی نصیحت کی وجہ سے پاکستان میں ہوں اور عافیہ بھی اسی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے واپس پاکستان لوٹی تھی۔ دنیا کی بہترین درسگاہوں سے اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کرنے کے بعد میرے آج پاکستان میں موجود ہونے کی وجہ میرے والدین کی نصیحت ہے اور میں طب کے شعبے میں اپنے ہم وطنوں کی حتی الامکان خدمت کرنے کی کوشش کررہی ہوں۔ میری بہن عافیہ بھی اسی جذبہ کے ساتھ پاکستانی واپس آئی تھی مگر افسوس اسے تعلیم کے میدان میں قوم کی خدمت کرنے سے روک دیا گیا۔

error: