دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی خود ایک دعوت بن جاتی ہے۔
ان کے سفر کو پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہدایت دینا چاہیں تو پھر حالات، مخالفتیں، رکاوٹیں… کچھ بھی راستہ نہیں روک سکتا۔
ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمیؒ بھی ایسی ہی عظیم شخصیت تھے۔
وہ صرف ایک عالمِ دین نہیں تھے، بلکہ ہدایت، استقامت، علم اور قربانی کی زندہ مثال تھے۔
پیدائش۔ ابتدائی زندگی
ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمیؒ 1943ء میں اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے قصبہ بلیا ریہ گنج کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام بانکے رام تھا۔
ان کے والد اپنے علاقے کے بااثر آدمی اور برادری کے چودھری تھے۔ خاندان خوشحال تھا۔ کولکاتہ میں ان کا کاروبار بھی تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول میں حاصل کی، پھر شبلی کالج اعظم گڑھ میں داخلہ لیا۔ یہیں سے ان کی زندگی کا رخ بدلنا شروع ہوا۔
دینِ حق اور دل کا انقلاب
1951ء میں میٹرک کے بعد جب وہ گھر آئے تو کسی نے انہیں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب “دینِ حق” کا ہندی ترجمہ پڑھنے کو دیا۔
یہ کتاب ان کے لیے محض ایک کتاب نہیں تھی، بلکہ ہدایت کا دروازہ تھی۔ وہ خود اپنے انٹرویوز میں کہتے تھے کہ اس کتاب نے ان کے ذہن میں ایک طوفان برپا کردیا۔ انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ قرآن پڑھا۔ مسلمانوں سے سوالات کیے۔ مختلف مذاہب کا تقابل کیا۔ آہستہ آہستہ انہیں محسوس ہوا کہ سچائی اسلام میں ہے۔ آخر ایک دن انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔
قبول اسلام کے بعد طوفان
اسلام قبول کرنا آسان تھا، اس پر قائم رہنا مشکل۔ جیسے ہی گھر والوں کو معلوم ہوا کہ بانکے رام مسلمان ہوگئے ہیں، پورا خاندان ان کے خلاف ہوگیا۔ رشتے دار ناراض ہوگئے۔ دوست دور ہوگئے۔ سماج دشمن بن گیا۔
ان کے کئی انٹرویوز میں یہ بات آتی ہے کہ ان پر شدید دباؤ ڈالا گیا کہ اسلام چھوڑ دیں۔ کبھی دھمکیاں دی گئیں، کبھی لالچ دیا گیا، کبھی مارپیٹ تک کی نوبت آئی۔ گھر والوں نے تعلق ختم کرلیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہیں تنہا زندگی گزارنی پڑی۔ لیکن ایمان جب دل میں اتر جائے تو پھر انسان صرف اللہ کو دیکھتا ہے۔
گھر والوں کا ردعمل اور بعد کی ملاقات
ابتدا میں ان کے گھر والوں نے ان سے سخت ناراضی اختیار کی۔ ان کی والدہ بہت غمزدہ رہتی تھیں، جبکہ خاندان کے بعض لوگ انہیں مرتد سمجھتے تھے۔لیکن وقت گزرتا گیا۔ جب کئی برس بعد وہ عالمِ دین بن کر، عربی لباس میں، علم اور وقار کے ساتھ اپنے علاقے واپس آئے تو لوگوں کی نظریں بدل چکی تھیں۔
جو لوگ کبھی مخالفت کرتے تھے، وہ حیرت سے انہیں دیکھتے تھے۔ گاؤں میں ان کی شخصیت عزت کی نگاہ سے دیکھی جانے لگی۔
بعض روایات اور ان کے انٹرویوز سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں ان کے خاندان کے کچھ افراد اسلام سے متاثر ہوئے، اور گھر والوں کے رویے میں بھی نرمی آگئی، اگرچہ پورا خاندان مسلمان نہیں ہوا تھا۔ ان کی والدہ کے دل میں بھی آخرکار نرم گوشہ پیدا ہوگیا تھا۔
یہ منظر کتنا عجیب ہوگا… ایک نوجوان جسے کبھی گھر سے دھتکار دیا گیا تھا، وہی بعد میں مدینہ یونیورسٹی کا استاد اور مسجد نبوی ﷺ میں درسِ حدیث دینے والا عالم بن گیا۔
دینی تعلیم کا سفر
اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے دینی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے جامعہ دارالسلام عمرآباد میں تعلیم حاصل کی۔ وہاں ان کی ذہانت نمایاں ہوگئی۔ پھر ان کا داخلہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ہوگیا۔ یہ ان کی زندگی کا سب سے اہم مرحلہ تھا۔
مدینہ کی پاکیزہ فضا، علمائے کرام کی صحبت، حدیث کی مجالس… یہ سب ان کی شخصیت کو سنوارتے گئے۔ انہوں نے وہاں گریجویشن کیا، پھر مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی سے ماسٹرز اور بعد میں جامعہ ازہر مصر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
شیخ الحدیث اور علمی عظمت
ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمیؒ حدیث کے میدان کے بڑے محقق بن گئے۔ بعد میں وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پروفیسر مقرر ہوئے، پھر حدیث فیکلٹی کے ڈین بنے۔ انہیں مسجد نبوی ﷺ میں درسِ حدیث دینے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
ان کی سب سے مشہور تصنیف’الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل‘ ہے، جس میں ہزاروں صحیح احادیث کو جمع کیا گیا۔ یہ ایسا عظیم علمی منصوبہ تھا جسے عام طور پر ادارے انجام دیتے ہیں، مگر انہوں نے بڑی حد تک انفرادی محنت سے مکمل کیا۔
رابطہ عالم اسلامی میں خدمات
انہوں نے رابطہ عالم اسلامی میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ دنیا بھر میں علمی و دعوتی خدمات انجام دیں۔ عرب دنیا میں انہیں بڑا مقام حاصل تھا، مگر حیرت یہ تھی کہ وہ اپنی ہندوستانی شناخت کبھی نہیں بھولے۔ سادگی، انکساری اور اخلاص ان کی شخصیت کا حصہ تھے۔
ان کی وفات
30 جولائی 2020ء کو یوم عرفہ ( حج ) کے موقع پر یہ عظیم محدث دنیا سے رخصت ہوگئے۔ موت بھی بڑے مبارک دن نصیب ہوئی۔ علمی دنیا سوگوار ہوگئی۔ ہندوستان سے لے کر مدینہ منورہ تک ہزاروں شاگرد اور علماء غمزدہ تھے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے علم کا ایک چراغ بجھ گیا ہو۔
ان کی زندگی کا اصل پیغام
ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمیؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہدایت خاندانوں کی جاگیر نہیں۔ حق کی تلاش انسان کو اللہ تک پہنچا دیتی ہے۔ مخالفتیں راستہ روک نہیں سکتیں۔ اخلاص کے ساتھ علم حاصل کیا جائے تو اللہ دنیا میں عزت دیتا ہے۔ وہ واقعی فرزند اسلام تھے۔
ایک ہندو گھرانے کا نوجوان جو ’بانکے رام‘ سے ’شیخ الحدیث ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی‘ بن گیا۔
یہ صرف ایک انسان کی کہانی نہیں، یہ اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔
گنگا سے زمزم تک
















