Advertisement

پاکستان اور قومی یکجہتی | بزم مکالمہ کی خصوصی نشست

رپورٹ: بساط ڈیسک/ اکبر علی ( ادارہ علم دوست)
بزم مکالمہ پاکستان کراچی نے جشن آزادی کے سلسلے میں ’قومی یکجہتی کا فقدان، اسباب اور تدارک‘ کے عنوان سے ایک فکرانگیز اور یادگار نشست منعقد کی۔ ملک کے معروف صحافی اور دانشور سید مظفر اعجاز اور مظہر عباس نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ نظامت کے فرائض شفیق اللہ اسماعیل نے انجام دیے اور مہمان مقررین کا تعارف نہایت جامع انداز میں پیش کیا۔ پروگرام کے أغاز سے قبل جناب طارق جمیل(بانی وصدر بزم مکالمہ ) نے شرکا بزم کا تعارف کروایا۔ افتخار ملتانی نے بزم مکالمہ کی غرض و غایت بیان کی کہ یہ گفتگو دراصل مکالمے کی اہمیت، اجتماعی شعور اور معاشرے میں فکری بیداری کے لئیے ہوتی ہے، محض معلومات حاصل کرنے یا کسی فوری فائدے کے لیے نہیں،کیونکہ ’تنہائی میں انسان صرف اپنے خیالات سنتا ہے، مکالمے میں انہیں پرکھنے کا موقع ملتا ہے۔‘
سابق ایڈیٹر جسارت اور ماہنامہ بساط کے چیف ایڈیٹر سید مظفر اعجاز نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ خیال غلط ہے کہ میں اور مظہر عباس 180 درجے کے مخالفین ہیں،ہاں ہم مختلف زاویوں سے سوچتے ہیں،اور کراچی پریس کلب جو مظہر عباس کا پہلا گھر ہے وہ پاکستان میں یکجہتی کی بہترین اور زندہ مثال ہے،اس کے سالانہ انتخابات،اختلافات اور نظریات صرف نتائج تک رہتے ہیں اس کے بعد سب مساوی ممبر ہوتے ہیں ۔
موضوع کی مناسبت سےانہوں نے کہا کہ کچھ باتیں ہم بچپن سے پچپن تک سنتے رہے اور اب تک سنتے آرہے ہیں کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے،قومی یکجہتی کی ضرورت ہے،ملک کے وسیع تر مفاد میں کچھ فیصلے کئیے جارہے ہیں، یا کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا، اور کڑوا گھونٹ بھی ایسا کہ اگلے گھونٹ تک کڑواہٹ حلق میں رہتی ہے،اس کے ختم ہونے سے پہلے ہی اگلا کڑوا گھونٹ آجاتا ہے، یہ سوال اور یہ مسائل ہر چند برس بعد سامنے آتے ہیں یہاں تک کہ یہ مذاق کے طور پر بولاجانے لگا کہ بھائی یہ نازک دور کب تک چلے گا، اسی طرح دینی طبقے کو استعمال کرنے کے لیے “اسلام خطرے میں ہے”کا نعرہ چلایاجاتا ہے۔اسے بھی مذاق میں استعمال کیا جاتا ہے کہ جب دیکھو مولوی صاحب اسلام خطرے میں ہے کا نعرہ ماردیتے ہیں۔
لیکن اسی میں سوچنے کے کچھ پہلو بھی ہیں ،یقینا نازک دور ہر ملک پر آتے رہے ہیں ، اسلام بھی خطرے میں آیا ہے ،1974 کی قادیانیت کے خلاف تحریک میں اگر قومی یکجہتی نہ ہوتی تو پارلیمنٹ متفقہ فیصلہ نہ کر پاتی۔ ہم اکثر مرض کی تشخیص بھی کرلیتے ہیں کہ ملک کو قومی یکجہتی کی ضرورت ہے ، لیکن علاج نہیں ہوپاتا، یکجہتی ہے کہ پارہ پارہ ہوئی جارہی ہے،مظفر اعجاز صاحب نے کہا کہ ان مسائل کو سمجھنے کے لئیے ضروری ہے کہ پاکستان کے قیام کی بنیادوں کو سمجھیں۔ کچھ سوالات ہیں،
کیا پاکستان پنجاب نے بنایا،اردو بولنے والوں نے بنایا، سرحد و بلوچستان نے بنایا ؟ اور کیا کسی زبان کی بنیاد پر بنایا گیا؟یہ سیدھا سیدھا قوم نے بنایا ،مسلمان قوم!!اور مسلمان بھی ایسے کہ شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث وغیرہ سب ہی شریک تھے ،
ان سب کو ہندو اور انگریز مسلمان ہی سمجھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہ گروہ ایک دوسرے کو مسلمان نہ سمجھیں۔
دوسری اہم بات قیام پاکستان کی بنیاد ہے،
اگر قیام پاکستان کی نظریاتی بنیاد پر بات کریں تو مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا نام ضرور آئے گا۔ انہوں نے، قومیت، مسلم قومیت اور قومی یکجہتی کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور اس اعتبار سے دوقومی نظریہ کے اصل بانی وہی تھے ، مولانا مودودی نے “مسئلہ قومیت” اور “مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش” جیسی کتب میں واشگاف الفاظ میں یہ موقف اپنایا کہ مسلمانوں کی اساس کلمہ اور دین ہے،نہ کہجغرافیہ یا مغربی وطنیت، اور مسلم قومیت ہی ہماری قومی یکجہتی کی بنیاد ہے ۔
اسی کو علامہ اقبال نےدوسرے الفاظ میں یاد کیا ۔
” ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سےوطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے
بات پاکستان کی ہے تو زیادہ مستند قائد اعظم ہونگے، تو میں قائد اعظم کا حوالہ دیتا ہوں ان کے وہ جملے جو انہوں نے ۲۲ مارچ ۱۹۴۰ء کے ’’تاریخ ساز ‘‘ دِن ارشاد فرمائے تھے:-
“ہزارسال کے گہرے روابط کے باوجود اگرقوموں (ہندو اورمسلمانوں )میں اس قدرفاصلے ہیں،جتنے کہ آج ہیں ، تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی بھی وقت صرف اس لئے ایک قوم بن جائے گی کہ ان پر ایک جمہوری دستورمسلط کردیاگیا انہیں برطانوی پارلیمانی قانون کے غیرقدرتی اورمصنوعی طریقوں کے ذریعہ زبردستی یکجا کردیاگیا-فی الحقیقت یہ مختلف اورنمایاں معاشرتی نظام ہیں اوریہ ایک خواب ہے کہ ہندو اورمسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم بن سکیں گے اور اگر ہم بروقت اپنے تصورات پر نظرثانی نہ کرسکے تو یہ پورے انڈیا کو تباہی سے ہمکنارکردے گا- ہندوؤں اورمسلمانوں کادومختلف مذہبی فلسفوں ،معاشرتی رسم ورواج اورادب سے تعلق ہے –
وہ آپس میں شادی کرتے ہیں نہ اکٹھے بیٹھ کرکھاتے پیتے ہیں- دراصل وہ دومختلف تہذیبوں سے متعلق ہیں جن کی اساس متصادم خیالات اورتصورات پراستوار ہے -یہ بھی بالکل واضح ہے کہ ہندواور مسلمان تاریخوں کے مختلف ماخذوں سے وجدان حاصل کرتے ہیں ان کی رزم مختلف ہے، ہیروالگ ہیں اورداستانیں جدا-اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کا ہیرو دوسرے کادشمن ہوتاہے اوراسی طرح ایک کی کامرانیاں دوسرے کی ناکامیاں اور ایک کی ناکامیاں دوسرے کی کامرانیاں بن جاتی ہیں -ایسی دوقوموں کوایک ریاست میں جوت دینے کاجن میں سے ایک عددی لحاظ سے اقلیت اوردوسری اکثریت ہو، نتیجہ بڑھتی ہوئی بے اطمینانی ہی ہوگا اورآخرکاروہ تاناباناہی تباہ ہوجائے گا جو اس طرح کی ریاست کے لئے بنایاجائے گا-“
مظفر اعجاز نے کہا کہ یہ خطبہ رہنمائی کے لئیے کافی ہے۔ پاکستان کو دیکھیں یہاں مختلف مذاہب نہیں ہیں زبانیں اور ثقافتیں مختلف ہیں،اور ان الگ الگ زبانوں اور ثقافتوں کو قوم بنانے کے لئیے مذہب ہی اصل چیز ہے، جوں ہی سب کلمے کی لڑی میں پروئے جائیں گے یہ مسلم قوم اور ملت اسلامیہ بن جائے گی۔ یعنی قومی یکجہتی وطنی قومیت سے نہیں مسلم قومیت سےپیدا ہوگی۔
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
آجکل قومی یکجہتی کی ضرورت پھر محسوس ہورہی ہے۔۔۔ ہمیں۔۔۔ !ان کو نہیں جو اسے پارہ پارہ کررہے ہیں۔
ویسے تو قومی یکجہتی کی ضرورت ہر ملک کو ہے،امریکا برطانیہ، بھارت، ترکی فرانس کوئی بھی ملک لے لیں سب کو اس کی ضرورت پڑتی ہے ۔۔۔ بھارت میں تو مسلسل ڈیڑھ عشروں سےہندو قوم پرستی نے ملک کو جوڑا ہوا ہے ۔
البتہ ہمارے ملک کے بارے میں ابن انشاء ” اردو کی آخری کتاب” میں لکھ گئے ہیں کہ” یہ چین ہے ،یہاں چینی رہتے ہیں،چینی زبان بولتے ہیں ،یہ جاپان ہے یہاں جاپانی رہتے ہیں،جاپانی زبان بولتے ہیں، یہ فرانس ہے یہاں فرانسیسی رہتے ہیں،یہ فرانسیسی بولتے ہیں ،اور یہ پاکستان ہے یہاں پنجابی، بنگالی، سندھی، بلوچ، پختون وغیرہ رہتے ہیں۔ یہاں پاکستانی نہیں رہتے، پتا نہیں کیوں؟؟””
اسی پتا نہیں کیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان گیا۔
ہمیں اسی پتا نہیں کیوں کا جواب تلاش کرنا ہے۔اور یہ جواب ہے ہمارے پاس لیکن ہم اس کا اظہار یا اعتراف نہیں کرتے، اور” کہیں” سے اس کے خلاف کوشش ہوتی ہے اور وہ بھی اچھی طرح جآنتے ہیں کہ قومی یکجہتی پیدا ہوتے ہی قوم کچھ سوالات کرے گی ،،،،
ناانصافی پر اعتراض کرے گی،،، لہٰذا قومی یکجہتی پیدا ہی نہیں ہونے دو۔زبان، صوبے ، فرقے،مسلک،پارٹیوں اور شخصیات کے گرد جمع کردو،
اس قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے والے جب جب بے نقاب ہوئے وہ اپنے ملک کی سیاسی اور عسکری اشرافیہ، خان وڈیرے ،جاگیردار ، مولوی اور سردار ہی نکلے۔
یہ لوگ غلطیاں کرتے ہیں، غلط فیصلے کرتے ہیں، اور قوم بھگتتی ہے، مسلک، فرقہ، فقہ ،زبان ،نسل، علاقہ صوبہ ،پھر پارٹی، اتنی تقسیم ، اور تقسیم کرنے والوں کا جتھہ ایک ہے۔
قومی یکجہتی کیسے توڑتے ہیں ؟
یادش بخیر، مشرقی پاکستان کیسے الگ ہوا،
یہ 1971 میں نہیں ہوا 1965 کے لگ بھگ ایک جملہ عوام میں پھیلایا گیا ،اس وقت کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کہاں سے آیا ہے آج تو ہم سمجھ بھی لیتے ہیں اور میسیج کا ماخذ بھی تلاش کرلیتے ہیں،
جملہ تھا،
’بنگالی بابو آیا، مرغی چراکر لایا مرغی نے مارا پنجہ ،بنگالی بابو گنجا‘
اس سے پوری بنگالی برادری کی توہین کی جاتی تھی ،
یہ جملہ برسوں چلتا رہا یہاں تک کہ جوابی نفرت پیدا ہوئی اور پھیل گئی ،باقی آپریشن نشتر برداروں کاتھا۔
آگے بڑھیں کراچی حیدرآباد، یاد کریں
” سندھی مانڑوں بغل میں جھاڑو،ہاتھ میں لوٹا منہ میں آڑو،
یہ جملہ خوب پھیلایا گیا، شاید سندھ کی یا کراچی کی علیحدگی یا تقسیم مطلوب تھی لیکن بوجوہ یہ نہ ہوسکا ، اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ قوم کو چاروں صوبوں کی زنجیر مل گئی، لیکن نفرت مستقل پھیلائی جاتی رہی، اس زنجیر کو بھی 27 دسمبر 2007 میں توڑ دیا گیا، بد نصیبی یہ کہ اسی چاروں صوبوں کی زنجیر کی پارٹی آج قوم کے ہاتھ پیر کی زنجیر بمی ہوئی ہے۔
کراچی حیدرآباد میں مہاجر کا نعرہ لگا ،یہ سب سے نفرت کی بنیاد پر تھا لیکن ابتدا
“سندھی مہاجر بھائی بھائی دھوتی نسوار کہاں سے آئی ” سے ہوئی پھر پنجابی پختون اتحاد بنایا گیا،اب کراچی سے لاشیں پنجاب کے ساتھ ، بلوچستان اور سرحد جانے لگیں۔
تو آجکل کیا ہورہا ہے ،بلوچستان میں بے چینی بلوچ قوم کی بنیاد پر ،
سندھ میں تحریک ہے سندھی قومیت کی بنیاد پر ،پنجاب میں سرائیکی قومیت کی بنیاد پر بے چینی ہے، کشمیر، جسے قائد اعظم نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا،آدھی دشمن کے قبضے میں اور آدھی میں یکجہتی پارہ پارہ ،،،
تو اب قومی یکجہتی کی ضرورت زیادہ بلکہ بہت زیادہ ہے،
” ہم نے محض چوبیس سال میں مشرقی پاکستان کھودیا، یہ بھارتی حملے کی وجہ سے نہیں ہوا ،ہم نے مشرقی حصے میں قومی یکجہتی پارہ پارہ کردی تھی، علیحدہ ملک بننے سے زیادہ بڑا نقصان مشرقی حصے کے لوگوں سے پاکستانیت چھین لی گئی۔اب ہم کشمیریوں ، بلوچوں اور ملک کے محروم طبقات سے پاکستانیت چھیننے کی کوشش نہ کریں، یہ جو طاقتور طبقات ہیں الیکشن انجینئیرنگ، آرٹی ایس اور فارم 47 والے اسے کامیابی سمجھتے ہیں،اسی میں ملک گیا، قرضوں کا بوجھ بڑھتا گیا،آئی ایم ایف کی غلامی میں ملک ہے کوئی کام سیدھا نہیں ہے۔پھر بھی دعوے آسمان پر ہیں ۔
ان دعووں کے حساب سے پاکستان کئی مرتبہ ایشئین ٹائیگر بن چکا ہے،
آئی ایم ایف کے منہ پر تمام قرضے مارچکا ہے، یہاں تو رات تک سینے پر ٹینک گزرنے کی بات تھی اور صبح پلٹن میدان تھا۔
ایک مسئلہ اخلاقی گراوٹ کا بھی ہے، ساری ذمہ داری حکومتوں پر نہیں ڈالی جاسکتی، جگہ جگہ کچرا پھینکنا،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، لائن میں نہ رہنا،تیرا چور مردہ باد میرا چور زندہ باد،اخلاق اعلی ہوں تو ایسا نہیں ہو گا۔ہم خود شارٹ کٹ والے ہیں جو بندہ ہمارا کام کروادے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں ، “کام تو کروادیتا ہے۔
اگر پاکستانی قوم چاہتی ہے کہ قومی یکجہتی قائم ہو جائے تو سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ” قوم “کا مطلب سمجھیں پھر قوم بنیں، پھر قومی یکجہتی خود پیدا ہوجائے گی،
پھر علامہ اقبال یاد آتے ہیں۔
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں
یہ جذب باہم نہیں ہوگا تو
تو قومی یکجہتی نہیں ہوگی۔
پھر سوال ہوگا کہ یکجہتی پیدا کون کرے گا، سیدھا سادا جواب ہے کہ سیاسی رہنما، عسکری وسول اسٹیبلشمنٹ ، علما،طلبہ تنظیمیں، اور عوام یہ سب اب بڑے ہوجائیں بچپن سے نکلیں، تجزیہ کریں صحیح اور غلط میں امتیاز کریں ،
ورنہ داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔
اسوقت تو یہ حال ہے
گورنر ہاؤس میں خواجہ رضی حیدر نے قائد اعظم کے حوالے سے کہہ دیا
ہم لوگ بھلا کر ترا پیغام اخوت
شرمندہ کھڑے ہیں تری تصویر کے آگے
ایک احتیاط کا مشورہ ہے۔
کہتے ہیں کہ جب حالات خراب ہوں تو انقلاب آتے ہیں، لیکن پاکستان میں انقلاب کی جگہ کچھ اور آجاتا ہے، 77 میں قوم بھٹو صاحب کے خلاف باہر نکلی لیکن انقلاب کے بجائے فوج آگئی۔ پھر مستقل چھوٹی برائی بڑی برائی کا کھیل ہوا ترقی و خوشحالی نہیں آئی، پھر تبدیلی آئی رے ،، مگر وہ بھی نہیں آئی پوری فیلڈ کسی اور کے پاس ہے۔ کسی کے کنٹرول میں سب کچھ ہے۔
احتیاط یہ ہے کہ جالب نے عرصہ قبل کہا تھا
دور تھا انقلاب آتے تھے
آجکل انقلاب بکتے ہیں
بزم مکالمہ کے دوسرے مہمان مقرر مظہر عباس صاحب نے گفتگو میں قومی یکجہتی کے مسئلے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا ۔ مظہر عباس صاحب نے بنیادی مسئلے کو مکالمے، تعلیم، تنقیدی سوچ اور ریاستی اداروں کی کمزوری سے جوڑا ہے۔
مظہر عباس صاحب کے خطاب کے اہم نکات
1۔ مکالمے کا خاتمہ بنیادی خامی ہے۔
ان کے مطابق ہماری بنیادی کمزوری یہ رہی کہ ہم نے مکالمہ ختم کر دیا۔ تعلیمی ادارے مکالمے اور تنقیدی سوچ پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں، لیکن ہم نے وہاں سے Critical Thinking کو بتدریج ختم کر دیا۔
2۔ قومی یکجہتی کے فقدان کا اعتراف ضروری ہے
جب ہم یہ موضوع زیرِ بحث لاتے ہیں کہ پاکستان میں قومی یکجہتی کا فقدان ہے تو دراصل ہم پہلے ہی یہ تسلیم کر رہے ہوتے ہیں کہ مسئلہ موجود ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ فقدان پیدا کیوں ہوا؟
3۔ تحریکِ پاکستان کے ذریعے ملک حاصل کرنے والی قیادت کے پاس کیا پاکستان کو چلانے کا واضح منصوبہ موجود تھا؟
4۔ بھارت کی قیادت نے ابتدا ہی میں آئین، جمہوری نظام اور ریاستی ڈھانچے کے بارے میں واضح فیصلے کیے ، جبکہ پاکستان میں ایسے بنیادی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں طویل وقت لگا۔
5۔ مسلم لیگ کی اندرونی تقسیم
مظہر عباس صاحب نے مشرقی اور مغربی پاکستان کی سیاسی تقسیم کے بارے میں کہا کہ بنیاد ہی سیاسی تقسیم اور عدمِ شمولیت پر رکھی جائے تو بعد میں مضبوط قومی یکجہتی پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
6۔ ریاست کے چار ستون
ان کے خطاب کا ایک بہت اہم حصہ ریاست کے بنیادی اداروں سے متعلق ہے۔ وہ ریاست کے چار ستونوں ، پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ اور میڈیا کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔
ان کا بنیادی سوال بہت اہم ہے:
جب ریاست کے بنیادی ستون ہی کمزور، متنازع یا باہمی عدمِ اعتماد کا شکار ہوں تو ایک مضبوط اور متحد قوم کیسے تشکیل پا سکتی ہے؟
قومی یکجہتی صرف جذباتی نعروں سے پیدا نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ایک ایسا معاشرہ درکار ہے جہاں مکالمہ زندہ ہو، تنقیدی سوچ موجود ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو، سیاسی اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، اور ریاست کے ادارے اپنی آئینی حدود میں مضبوط اور قابلِ اعتماد ہوں۔
یہی نکتہ اس پورے مکالمے کو محض ایک سیاسی گفتگو کے بجائے پاکستان کے مستقبل پر ایک سنجیدہ فکری بحث بنا 2دیتا ہے۔
1954ء کے مشرقی پاکستان کے انتخابات میں سیاسی پارٹی کی کامیابی عوامی مینڈیٹ تھی اس کو قبول کیا جانا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے اسمبلی تحلیل کی گئی، جس سے مشرقی پاکستان میں مرکز کے خلاف بے اعتمادی بڑھی۔
بعد ازاں نظریۂ ضرورت کے ذریعے غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دینے کی روایت نے ریاستی اداروں کی بنیاد کو کمزور کیا۔
1958ء کے مارشل لاء کو وہ اس سلسلے کی ایک بڑی کڑی قرار دیتے ہیں، خصوصاً اسکندر مرزا اور پھر ایوب خان کے اقدامات کے حوالے سے۔
ان کے مطابق اس دور میں بھی جیلیں سیاسی اختلاف اور شہری آزادی کی جدوجہد کا میدان بن رہی تھیں؛ مولانا مودودی اور فیض احمد فیض جیسے افراد نے اپنے اپنے فکری زاویوں سے آزادیٔ اظہار اور شہری حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔
بعد میں تعلیمی اداروں سے اختلافِ رائے، مباحثے اور تنقیدی سوچ کم ہوتی گئی۔ سیاسی و نظریاتی اختلاف کو دلیل کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نے کیمپسز (تعلیمی اداروں) میں تصادم کو جنم دیا۔
ان کی ایک بہت خوبصورت یاد یہ ہے کہ ماضی میں شدید سیاسی مخالفین بھی انتخابی مہم کے بعد ایک ہی ہاسٹل میں بیٹھ کر کھانا کھاتے اور چائے پیتے تھے۔ یعنی سیاسی اختلاف اپنی جگہ، انسانی تعلق اپنی جگہ۔
ان کے مطابق جب سیاسی طلبہ تنظیموں اور یونینز کو ختم کیا گیا تو ایک ایسا پلیٹ فارم بھی ختم ہوگیا جہاں نوجوان عملی طور پر جمہوریت، اختلافِ رائے، انتخاب اور مکالمے کا تجربہ حاصل کرتے تھے۔
ہم نے تعلیمی اداروں سے Critical Thinking ختم کی۔ اگر نوجوان کو اختلاف کرنے، سوال اٹھانے، دلیل دینے اور مخالف نقطۂ نظر سننے کا موقع نہیں ملے گا تو وہ مستقبل میں بھی اختلاف کو مکالمے کے بجائے تصادم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے گا ۔
وہ پاکستان کی سول سروس کے کردار کو بھی قومی یکجہتی کے تناظر میں زیرِ بحث لاتے ہیں اور مشرقی و مغربی پاکستان کی نمائندگی میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلی کو ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
مظہر عباس نے عدلیہ اور قومی یکجہتی کا تعلق
جالب کے شعر کے حوالے سے بیان کیا:
یہ منصف خود ہی قیدی ہیں، ہمیں انصاف کیا دیں گے
لکھا ہے ان کے چہروں پہ، جو ہم کو فیصلہ دیں گے
مظہر عباس صاحب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ریاست کے ادارے خود غیر جانب دار اور آزاد نہ ہوں تو قومی یکجہتی کیسے قائم ہوگی؟ انصاف پر اعتماد قومی یکجہتی کی بنیادی شرط ہے۔
“جب ہم قوم ہی نہ بن پائے تو قومی یکجہتی کیسے آئے گی؟”
یہاں وہ 1940ء کی قرارداد، وفاقی اکائیوں اور بعد کے سیاسی فیصلوں کے درمیان تضاد کی طرف اشارہ کیا۔
ون یونٹ کو کبھی قومی یکجہتی کا ذریعہ سمجھا گیا، جبکہ بعد کے ادوار میں صوبائی شناختوں اور مزید انتظامی اکائیوں کی بحث سامنے آئی، مشرقی پاکستان کے حق کو غصب کرنے اور اصولوں کو مفادات کے تابع کرنے کی نشاندہی کی۔اور ریاست میں تذبذب یا ابہام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست خود یہ طے نہ کر سکے کہ اس کا وفاقی ڈھانچہ، صوبائی خودمختاری اور وسائل کی تقسیم کس اصول پر ہوگی، تو عوام میں بھی مستقل قومی اعتماد پیدا نہیں ہو سکتا۔
“پاکستان کو شروع دن سے Leadership Crisis کا سامنا رہا ہے۔”
سارا وقت اس بحث میں گزرا کہ پارلیمانی یا صدارتی نظام؟ مرکز اور صوبوں کے اختیارات؟ وسائل کی تقسیم کا اصول؟سب سے اہم آئین کی بالادستی؟
اداروں کی حدود؟
آئین بنانے کے بعد اسے توڑنے والوں کو بھی مختلف ادوار میں نظریۂ ضرورت کے تحت قانونی جواز فراہم کیا گیا۔یعنی
اگر طاقتور شخص آئین توڑ دے تو شاید اسے بعد میں قانونی جواز مل جائے گا۔عام آدمی کوسزا مل جاتی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ’قومی یکجہتی کا آغاز قومی وضاحت سے ہوتا ہے؛ قومی وضاحت آئین سے، آئین کی بالادستی اداروں سے، اور اداروں پر اعتماد انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔‘
اور اگر ہم واقعی قومی یکجہتی چاہتے ہیں تو ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ “قوم میں اتحاد کیوں نہیں؟”
بلکہ یہ بھی پوچھنا ہوگا:
کیا ریاست نے کبھی مستقل طور پر ایسا نظام، آئین اور ادارے فراہم کیے جن پر ہر پاکستانی بلاامتیاز اعتماد کر سکے؟!!!
یہی سوال اس پورے مکالمے کو محض سیاسی بحث سے اٹھا کر ریاست، آئین، اداروں اور شہری کے درمیان تعلق کی بنیادی بحث بنا دیتا ہے۔
تاریخ کو صرف دو قومی نظریے کی بحث تک محدود کر کے دیکھنے کے بجائے ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ریاست نے عملی طور پر اپنے شہریوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا،فاطمہ جناح کے صدارتی انتخاب کی مثال، شیخ مجیب الرحمن کا فاطمہ جناح کی انتخابی مہم سے وابستہ ہونا بھی اس دور کے سیاسی حالات کا ایک اہم پہلو تھا۔
جمہوری مینڈیٹ کو قبول کرنے میں مشکلات کیوں پیش آئیں؟ابتدائی 24 برس میں آئینی بحران پیدا ہوئے،اسمبلیاں تحلیل ہوئیں،مارشل لا آئے،
جمہوری عمل متاثر ہوا،
اور بالآخر مشرقی حصہ الگ ہو گیا۔
اس لیے آج قومی یکجہتی کی بحث کرتے وقت صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “قوم کو متحد ہونا چاہیے”۔انہوں نےقومی مفاد، سیاسی اختلاف، مقبولیت، جمہوری قبولیت اور ریاستی بیانیے کے تعلق کو بہت گہرائی سے بیان کیا،اور تجویز کیاکہ اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنایا جائے،
مکالمہ ختم ہوگا تو اختلاف دشمنی بن جائے گا۔
ہر مخالف کو غدار قرار دینے کا رجحان بھی غلط اور تباہ کن ہے۔
مقبولیت اور قبولیت کا مسئلہ بھی یکجہتی توڑتا ہے،عوام میں مقبول ریاست کو قبول نہیں۔
نشست کے اختتام پر بزمِ مکالمہ کی یادگاری شیلڈ مہمانوں کو پیش کی گئی۔ اس موقع پر الطاف شکور، طارق جمیل، افتخار ملتانی اور شفیق اسماعیل نے شیلڈ پیش کی۔
پروفیسر شفقت حسین خادم نے اپنی علمی تصنیف “قرآن مجید کے انگریزی تراجم” بھی مہمان مقررین اور منتظمین کو پیش کی۔

error: