Advertisement

چراغوں کاسفر

میرا تعلق بھی چراغ راہ سے ہے بلکہ میں بھی چراغ راہ ہوں ، ویسے یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ رسالہ کبھی ہاتھ میں لے کر نہیں پڑھا،اسے والد صاحب کی میز پر دیکھا ،لیکن وہاں بہت کچھ سجا ہوا ہوتا تھا ،تین چوتھائی میز پر ہومیوپیتھک دوائیں بقیہ چوتھائی کا نصف ڈاکٹر ہونومان کی ہومیوپیتھک کتب اوربقیہ نصف پر رسائل و جرائد طلوع، ریڈرز ڈائجسٹ،عصمت، ہیرالڈ وغیرہ ہوتے تھے ان ہی میں ایک دو مرتبہ ہمارے لئیے بچوں کا ایک رسالہ بھی ہوتا ایک آدھ مرتبہ چراغ راہ بھی وہاں دیکھا، اس سے زیادہ چراغ راہ نہیں دیکھا۔
لیکن رسالہ چراغ راہ سے فیض یاب ہونے والوں سے براہ راست فیض اٹھایا ہے ، 1983 میں جب ہم جسارت پہنچے تو مدیر محمد صلاح الدین تھے،وہاں جناب معین الدین عقیل صاحب تھے،متین الرحمن مرتضی صاحب تھے، جناب عرفان غازی صاحب تھے،جناب ثروت جمال اصمعی صاحب تھے، عزیزالرزاق کشش صدیقی، جناب استاد اطہر ہاشمی صاحب تھے، معین کمالی صاحب تھے، نذیر خان تھے،اور مختار گوہر بھی تھے، ان سب کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ یہ سب چراغ راہ سے فیض ضرور حاصل کرتے رہے ہوں گے، اور ہاں جناب ابو نثر صاحب دفتر میں تو نہیں ،جسارت کے صفحات پر باقاعدہ موجود ہوتے تھے، ان ہی چراغوں نے ہمارے راستے میں بھی روشنی کی۔تو ہم بھی چراغ راہ ہوگئے۔
ایک بیماری سینئر ہونے کی بھی ہے، اور بھائی آجکل تو پانچ سات سال ہی میں صحافی سینئر ہوجاتا ہے لیکن یہاں بیٹھے سینئر صحافیوں کے سامنے ہم اب بھی جونیئر ہی ہیں، البتہ 44 برس کی صحافت کے بعد اتنا تو کہ سکتے ہیں کہ اردو صحافت کے 200 برس میں 20 فیصد حصہ ہمارا بھی ہے اور بطور ایڈیٹر 10 فیصد سے زیادہ اور گرفتاری، اغوا اور چھاپوں کی وجہ سے اہمیت اوربڑھ گئی ہے، (اپنی نظر میں)اس لیے یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم بھی چراغ راہ ہیں۔
دو باتیں ہیں ،ایک یہ کہ چراغ راہ کی تقریب پذیرائی کی بابت جان کر پہلا شمارہ پروفیسر خورشید نمبر طلب کیا تو ہمارے روایتی نظام کا شکار ہوگیا تقریب کا دن اگیا ہم انتظار میں جل جل کر چراغ راہ کے بجائے چراغ پا ہوئے جارہے تھے۔ چنانچہ ٹیکنالوجی کی مدد سے چراغ راہ کے پرانے شمارے دیکھے، (دروغ بر گردن ٹیکنالوجی)
میری تلاش کے نتائج کے مطابق چراغِ راہ تحریکِ پاکستان کے فورا بعد جولائی 1947ء میں چوہدری غلام محمد نے جاری کیا تھا۔( جسارت کے بھی وہی بانی تھے، ہماری نظر میں تو جسارت بھی چراغ راہ تھا) ، رسالہ چراغ راہ اپنے دور کے فکری، سیاسی اور سماجی موضوعات پر ضخیم اور تحقیقی گوشے (اسپیشل نمبر) شائع کرنے کے حوالے سے انتہائی شہرت رکھتا ہے۔اس کے مدیران اور اہم قلمکاروں کےنام ہی اس کے چراغ راہ ہونے کی دلیل ہیں ۔
چوہدری غلام محمداس جریدے کے بانی اور ناشر تھے۔ سید نظیرالحق میرٹھی: رسالے کے اولین مدیر تھے۔ ان کے علاوہ مولانا نعیم صدیقی: نامور شاعر، ادیب اور اسلامی اسکالر، انہوں نے بھی طویل عرصہ رسالے کی ادارت کے فرائض انجام دیے اور اسے فکری بلندی بخشی۔
پروفیسر خورشید احمد: جن کے نام سے یہ خصوصی شمارہ آج سامنے ہے۔۔۔۔ معروف ماہرِ معاشیات اور دانشور، وہ بھی طویل عرصے تک اس کے مدیر رہے۔ جیلانی بی اے: ابتدائی دور کے مدیران میں شامل تھے۔
مختلف ادوار میں اس جریدے کی مجلس ادارت اور مشاورت میں شامل اہم نام ڈاکٹر منظور احمد ،محمود فاروقی، سید کاظم علی دہلوی کے ہیں۔
چراغِ راہ کے لیے اپنے دور کے جید اور نامور اہل علم و ادب نے تحریریں لکھیں۔ ان میں نمایاں ترین نام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مولانا مسعود عالم ندوی مولانا امین احسن اصلاحی ملک غلام علی عبدالحمید صدیقی مریم جمیلہ خرم مراد اس کے علاوہ، ادارتی ٹیم میں شامل آصف نعیم صدیقی اور محمد عزیز بھی مدیران کی فہرست میں شامل رہے ہیں۔
میرے خیال میں اس انکشاف کے بعد یہاں موجود سینئر ترین صحافی بھی اب جونیئر ہوگئے۔
تمام تر گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ آج چراغ راہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ، اب سے تقریبا اناسی برس قبل جب اس کا اجرا ہوا تھا قوم کی سمت درست تھی سب تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان سے جڑے ہوئے تھے ،دین کی بنیای چیزوں اور تقاضوں سے واقف تھے،اردو ہی نہیں فارسی اور عربی سے بھی بہت بڑی تعداد واقف تھی، زبان اور معاشرت میں بھی تہذیب وشائستگی کا دور تھا ، اختلاف بھی تہذیب کے دائروں میں ہوتا تھا اور سیاست بھی ، لیکن اب سب کا بیڑا غرق ہوگیا ہے ایسے غرق بیڑے کو ترانے کا بیڑا اٹھانے والے بھی کم نہیں ہیں،ان کی ذمہ داریاں بھی دوچند سہ چند ہیں ،اگر احمد حاطب زبان کی اصلاح کررہے ہیں تو اورنگزیب رہبر رہنمائی کررہے ہیں،بقیہ ٹیم سے واقف نہیں لیکن یقین ہے کہ وہ قابل اور “اہلیہ” ہیں،یہ نیا لفظ دائرے میں کئی دن گردش کرتا رہا ، بہر حال یہ ایک بڑا کام ہے۔
چراغ نور پھیلاتا ہے اور نور اللہ ہے اندھیرے میں روشنی پھیلانا کار پیمبری ہے۔ محترم احمد حاطب آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں ، یہ کام نئے سرے سے کرنا ہے ،ایک ایک ادھڑے ہوئے بخیے کا رفو کرنا ہے پھر قدم آگے بڑھیں گے، آپ آگے بڑھیں ہم آپ کے قد بہ قدم ہیں ۔ ضروری نہیں کہ آپ چراغ راہ کے اجرائے ثانیکے ذریعہ زمانے کو روشن کردیں لیکن اپنے حصے کی شمع تو جلاہی دیں ،پھر
رات کو جیت تو پاتا نہیں یہ چراغ
کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
کے مصداق کچھ تو بہتری آئے گی
اور جہاں تک رات کی بات ہے اسے بھی کسی نے خوب کہا ہے:
رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی
دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے

error: