ستمبر اور اکتوبر 2025 میں مجھے دو ماہ تک Karachi میں قیام کا موقع ملا۔ یہ قیام میرے لیے محض ایک سفر نہیں بلکہ ایک ایسا جذباتی اور فکری تجربہ تھا، جس نے ایک ایسے شہر کو دوبارہ دیکھنے کا موقع دیا جس سے میرا تعلق صرف یادوں کا نہیں بلکہ شناخت کا بھی ہے۔
میری پیدائش 1956 میں کراچی میں ہوئی۔ میرے والد محترم، مولانا احتشام الحق تھانوی رح، 1947 میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور نہ صرف یہ کہ جیکب لائن کی جامع مسجد کا نظام سنبھالا بلکہ کراچی کی ابتدائی تعمیر و ترتیب اور آبادکاری میں ان کا نمایاں کردار رہا۔ وہ ایک معروف دینی شخصیت تھے جنہوں نے دینِ اسلام کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کر دی اور خطیب پاکستان کہلائے۔ آج بھی لوگ ان کے نام اور خدمات سے واقف ہیں، اور مجھے جو محبت اور عزت ملی، اس میں یقیناً میرے والد کی خدمات کا بڑا حصہ شامل ہے۔اسی لیے میری اولین ترجیح یہ تھی کہ میں اپنے والد صاحب اور والدہ صاحبہ کی قبروں پر حاضر ہوا جو مسجد سے متصل ہیں۔ اللہ تعالی انکی قبروں کو نور سے منور فرمائے آمین ثم آمین
اس دوران میرا قیام گلشنِ اقبال میں اپنے بڑے بھائی انتظام الحق تھانوی صاحب کے ہاں رہا۔ وہ ریاض، سعودی عرب میں اپنی خدمات انجام دینے کے بعد اب ریٹائر ہو چکے ہیں اور اپنے ذاتی گھر میں مقیم ہیں۔ ان کی شخصیت خلوص، خدمت اور تعاون کا خوبصورت امتزاج ہے۔ انہوں نے نہ صرف میرا بے حد خیال رکھا بلکہ جہاں جہاں مجھے دعوت پر یا اپنے بہن بھائیوں اور عزیز واقارب سے ملنے جانا ہوتا، وہ خود مجھے لے کر جاتے۔
اس دوران{ دینی مدارس اور علما جیساکہ میرے مربی حضرت مولانا ڈاکٹر اسعد تھانوی دامت برکاتہم العالیہ اور مفتی عبداللہ نجیب ، جناب مولانا منصور عثمان، مولانا الیاس، مولانا محمد عمر، مولانا منظرالحق تھانوی اور مولانا جعفر الحسن تھانوی، جناب عزیزالحسن قدسی، جناب نوید تواب، آصف توصیف اور میرے تایا زاد بھائی جناب حفیظ الحق (طه میاں)، برادر خلیق الرحمٰن عثمانی، ڈاکٹرنعمان الحق اور جناب شاہد احمد ، جناب سلیمان اور ڈاکٹر یحیٰی چاولہ صاحبان قابل ذکر ہیں }کراچی کی ٹریفک کے حالات کے پیش نظر یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں 50 منٹ یا ایک گھنٹہ لگ جانا معمول کی بات ہے۔ اس شدید دباؤ کے باوجود انتظام الحق تھانوی صاحب نے جس صبر اور خوش دلی کے ساتھ میری رہنمائی کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کی میزبانی اور شفقت میرے لیے ایک یادگار تجربہ ہے۔
کراچی بلاشبہ ایک عظیم اور متحرک شہر ہے، مگر اس کے مسائل بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، کھلے گٹر، ناقص نکاسیٔ آب کا نظام، اور بارش کے بعد پانی کا جمع ہو جانا شہری زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: “ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ” (الروم: 41)
ترجمہ: خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے۔
ٹریفک کا نظام افراتفری کا شکار ہے۔ قوانین کی پابندی کمزور نظر آتی ہے اور ہر شخص اپنی سہولت کے مطابق راستہ اختیار کرتا ہے۔ چوراہے اور راؤنڈ اباؤٹس اپنی اصل افادیت کھو چکے ہیں۔
رہائشی عمارتوں، خصوصاً پرانے فلیٹس، کی حالت بھی قابلِ تشویش ہے۔ سیوریج کے مسائل، گندگی اور عدم دیکھ بھال ایک اجتماعی غفلت کی عکاسی کرتے ہیں۔ فٹ پاتھ اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں کہ پیدل چلنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔
معاشی ناہمواری بھی نمایاں ہے۔ ایک طرف عام شہری بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف کچھ مقامات پر غیر رسمی انداز میں رات گئے تک کھانے پینے کی محفلیں جاری رہتی ہیں—یہاں تک کہ ایسے ماحول میں جہاں سیوریج کا پانی اور بدبو موجود ہو۔
تاہم، ان تمام مسائل کے باوجود کراچی کے عوام کی محبت، خلوص اور مہمان نوازی ایک روشن حقیقت ہے۔ بطور دینی کارکن، مجھے مساجد، فیکٹریوں اور گھروں میں خطابات کے لیے مدعو کیا گیا۔ لوگوں نے جس عقیدت اور محبت کے ساتھ میرا استقبال کیا، وہ میرے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ’’اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں‘‘
حل کی جانب چند عملی تجاویز:
O قانون کی سخت اور بلا امتیاز عملداری
O نکاسیٔ آب کے مؤثر نظام کی تشکیل
O بلدیاتی اداروں کی فعالیت اور جوابدہی
O شہری شعور اور ذمہ داری کا فروغ
O صفائی اور نظم و ضبط کی پابندی
بدقسمتی سے بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ متعلقہ اداروں کی سنجیدگی میں کمی ہے، اور عوام کو گویا یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ’یہی حالات ہیں—قبول کریں یا چھوڑ دیں‘۔
آخر میں، میں کراچی کے عوام، اور خصوصاً اپنے بھائی انتظام الحق تھانوی صاحب کی محبت، صبر اور خدمت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شہر کو امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
کراچی: مسائل کے ہجوم میں محبت کی روشنی
















