Advertisement

دِل چھوڑ آئے

مسجد اقصیٰ سے واپس تو آگئے لیکن دل وہیں چھوڑ آیا تھا لگتا تھا جیسے میری کوئی بہت عزیز چیز مجھ سے چھننے والی ہو طبیعت پر عجیب طرح کا بوجھ تھا بے چہرہ پریشانی تھی ۔
حمزہ اور بلال کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا دونوں کے چہرے اترے ہوئے تھے ۔
ہم سب ایک دوسرے کا درد جانتے تھے ۔ لیکن اس کا مداوا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ اسلئے خاموشی سے واپس آ کر پیکنگ شروع کردی ۔
سامان تھا ہی کتنا جو دیر لگتی ۔ پیکنگ مکمل کرنے کے بعد ہم کمرے میں بیٹھ گئے اور خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ۔ہم میں سے کسی کا بھی دل بات کرنے کو نہیں چاہتا تھا ۔ حمزہ بستر پر لیٹ کر دیوار کی طرف منہ کر کے دیوار کو گھورنے لگا ۔
بلال موبائل فون پر کچھ دیکھ رہا تھا ۔
میں اٹھ کرکھڑکی میں جا کھڑاہوا۔
پردہ ہٹایا تو سنہری گنبد نظروں کے سامنے تھا ۔ چڑھتے سورج کی شعائیں جب اس سنہری گنبد پر پڑتیں تو لگتا جیسے نور کی بارش ہو رہی ہو ۔ جیسے جنت کا دروازہ کھل گیا ہو
اور فرشتے قطار اندر قطار نیچے اتر رہے ہیں ۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں سے میرے پیارے نبی صلعم اپنے محبوب سے ملنے سدرة المنتہاء کے اس پار گئے تھے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں نے میرے پیارے نبی کی امامت میں نماز ادا کی تھی
روئے زمین پر کوئی اور جگہ ایسی نہیں جہاں ایک وقت میں سارے پیغمبر ایسے اکھٹے ہوئے ہوں ۔
اس خطہ زمین کے چپے چپے سے کوئی نہ کوئی کہانی وابستہ ہے یہاں قدم قدم پر تاریخ انسانی کے قدم ثبت نظر آتے ہیں


یہاں آکر ایک لمحے کے لئے بھی مجھے اجنبیت محسوس نہں ہوئی تھی ۔ لگتا تھا جیسے میرا اس سر زمین سے ہمیشہ کا رشتہ ہے۔ یہ میرا وطن تھا اور میں بس کچھ دنوں کے لئے وطن سے باہر گیا تھا اور اب لوٹ آیا ہوں ۔
اس جگہ کی مٹی سے مجھے اپنی خوشبو آتی تھی یہاں کے لوگ اپنے اپنے سے لگتے تھے لیکن آج یہ سب کچھ چھننے والا تھا مجھے لگا جیسے میری بادشاہی مجھ سے چھیننے کی تیاریاں ہو رہی ہوں ۔ یروشلم اور مسجد اقصٰی کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ صدیوں پرانے سارے ہی دور یہاں حال کے ساتھ منجمد ہیں ۔
اس کی گلیوں میں پھرتے وقت جب آپ امام غزالی کا مکان دیکھتے ہیں چار سو سال پرانی بیکری میں کائیک بنتی دیکھتے ہیں زاویہ ہندی میں بابا فرید کی چلہ گاہ کی زیارت کرتے ہیں ۔ اس مکان کے سامنے سے گزرتے ہیں جس میں حضرت مریم پیدا ہوئیں تو آپ کو یہی احساس ہوتا ہے آپ کا حال آپ کے ساتھ صدیوں کے سفر پر بہت پیچھے چلا گیا ہے ۔
اور ان گلیوں کے پتھریلے فرش پر وقت اور تاریخ آپ کو مقید نظر آتے ہیں یہاں حضرت عمر کے قدموں کے نشان بھی محفوظ ہیں اور آپ صلعم اور براق کی آمد کے آثار بھی اسی طرح موجود ہیں ۔یہاں تک دیوار میں چنا وہ نوکیلا پتھر بھی جس کے ساتھ آپ نے براق کو باندھا تھا حضرت سلیمان اور داؤد کی نشانیاں بھی موجود ہیں اور صلاح الدین ایوبی اور بیبرس کی بنائی عمارات بھی ۔
مکہ اور مدینہ کے ساتھ سب سے بڑا یہ کیا گیا ہے کہ ظالموں نے ہماری تاریخ اور ورثے کو ہوٹلوں اور عمارتوں کے جنگل میں دفن کر دیا ہے۔کچھ ہفتے پہلے میں نے اسی کھڑکی سے اس گنبد کو پہلی بار دیکھا تھا اسے نظروں کا پہلا سلام بھیجا تھا اور آج وہیں سے اس کو الوادعی نظروں سے دیکھ رہاتھا ۔
میں نے کھڑکی کے پٹ کھول دیئے
ٹھنڈی ٹھنڈی نسیم سحری چل رہی ہے ۔ فضا میں خوشبو سی گھل گئی۔ روح پرور صبح کی ٹھنڈک رگ وپے میں اترتی چلی گئی ۔ سامنے بچے مسجد اقصٰی کے احاطے میں فٹ بال کھیل رہے تھے ۔ خواتین اور مرد ٹولیوں میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔ آج ہفتہ ہونے کی وجہ سے ان میں مقامی فلسطینیوں کی تعداد زیادہ تھی مسجد اقصیٰ کے اردگرد رہنے والے ان فلسطینیوں کے لئے یہ صرف ایک مسجد کا احاطہ ہی نہیں ہےان کی زندگیوں کا محور بھی ہے ان کی ساری صبحیں ان کی ساری شامیں یہیں گذرتی ہیں ۔ پچھلے تین دن کی وحشت ظلم کو بھول کر یہ لوگ ایک بار پھر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئے تھے ۔ بے شمار کبوتر بھی ان کے گرد دانہ دنکا چننے میں مصروف تھے ۔ کبوتروں کی ایک ڈار گنبد کے گرد طواف کر رہی تھی وہ تھک جاتی اور زمین پر آ کر بیٹھتی تو دوسری ٹولی اس کی جگہ لے لیتی ۔ مسجد اقصیٰ کے ان کبوتروں ، یہاں آنے والے زائرین اور اس کے گرد رہنے والے یہاں کے ان باسیوں کا اس مقدس جگہ سے رشتہ بھی بڑا عجیب ہے نہ یہ اس کی زیارت سے تھکتے ہیں اور نہ گنبد کے نور میں کوئی کمی آتی ہے اور نہ ہی مسجد کا یہ احاطہ ان کے لئے کبھی تنگ پڑتاہے ۔


اس منظر سے نگاہیں ہٹانے کو من نہیں کرتا تھا ۔
مجھے احساس تھا کہ آج کے بعد یہ منظر پھر نہیں ملے گا میں نے آنکھیں بند کرلیں اور اس الوداعی نظارے کو روح میں بسا نے کی کوشش کرنے لگا ۔
پتا نہیں کتنی دیر گزر گئی اچانک بلال کی آوازکانوں میں گونجی
وہ کہہ رہا تھا
“ بابا چلیں ناشتے کے لئے چلیں “
شائید وہ کمرے میں چھائی اس خاموشی سے اکتا گیا تھا لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ یہ خاموشی مجھے کتنی پیاری تھی ایسے لمحے کہاں روز روز میسر آتے ہیں مگر اس نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا تھا ۔
ہم سب اٹھے اور نیچے ڈائننگ روم میں پہنچ گئے ۔
ابھی ہم ناشتہ کر ہی تھے کہ مسجد اقصیٰ کے امام شیخ العباسی کا فون آگیا وہ ہماری روانگی کا وقت پوچھ رہے تھے
میں نے انہیں بتایا کہ بس گیارہ بجے نکلے گی ۔
تو کہنے لگے کہ ہم انہیں ملے بغیر نہ جائیں وہ ہمیں رخصت کرنے آرہے ہیں ۔ ابھی کل ہی ہمیں نماز جمعہ کے بعد ان کے گھر ظہرانے کی سعادت نصیب ہوئی تھی ۔
ہمارے لئے اس سے بڑی اعزاز کی بات اور کیا ہوسکتی تھی کہ یروشلم کا اتنا بڑا اور اہم آدمی ہمارے لئے اتنے اچھے جذبات رکھتا تھا ۔ اور ہمارا اتنا خیال رکھ رہا تھا ۔
ناشتے سے فارغ ہو کر ہم نیچے بس اسٹاپ پر پہنچ گئے ۔ یہاں آرام دہ کرسیوں پر آٹھ دس افراد بیٹھے نظر آئے دو فلسطینی خاندان تھے اور ایک یورپین جوڑا تھا۔ میں ابھی عمان کا ٹکٹ خرید کر کھڑکی سے ہٹا ہی تھاکہ شیخ العباسی ہال میں داخل ہوئے ۔ لمبے سرخ وسپید برف جیسی لمبی سفید داڑھی والے بارعب شخصیت کے مالک شیخ العباسی کے ہال میں آتے ہی ایک کھلبلی سی مچ گئی ۔ ٹرانسپورٹ کمپنی کا سارا عملہ ان کے سواگت کو لپکا لیکن وہ سیدھے ہمارےپاس آئے اور ہمیں گلے ملنے لگے ان کا ہماری جانب یہ التفات دیکھ کر اڈے کا مینیجر بھی پریشان ہوگیا اس نے میرے پاس آ کر معذرت کی اور مجھے ٹکٹ کے پیسے واپس کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن میں نے نرمی سے انکار کر دیا ۔ شیخ العباسی نے بھی اس کا شکریہ ادا کیا جس پر وہ سر ہلاتا ہوا واپس چلاگیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد چائے اور دوسرے لوازمات لے آیا ۔
ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا مگر وہ ہمارے گرد ہی منڈلاتا رہا ۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ شیخ کے معتقدین میں سے تھا۔
شیخ صاحب کی اتنی پذیرائی دیکھ کر وہ یورپین جوڑا بھی ہمارے پاس آگیا اور شیخ صاحب سے متعارف ہوا ۔ جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ وہ مسجد اقصیٓ کے بڑے امام ہیں تو ان کی گفتگو میں احترام کا عنصر بھی شامل ہوگیا ۔ سیکولر خیالات کے حامل درمیانی عمر کے یہ دونوں میاں بیوی جرمنی کے رہنے والے تھے اور میونخ یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے ۔مائیکل شعبہ تاریخ کا پروفیسر تھا جبکہ مارگریٹ فلسفہ پڑھاتی تھی۔
انہوں نے یروشلم اور فلسطین کے حالات اور فلسطینی مسلمانوں کے حوالے سے پے درپے سوالات کرنے شروع کر دئیے لیکن شیخ نے ان کے ہر سوال کا بڑے تحمل اور اطمینان سے تسلی بخش جواب دیا ۔
ان کے سوالات اور جوابات سے ہماری معلومات میں بھی اضافہ ہوتا رہا بہت سے سوالات ایسے بھی تھے جو کل ہم نے بھی ان سے پوچھے تھے لیکن وہ طرح دے گئے تھے لیکن آج جب انہوں نے ان موضوعات پر اس جرمن جوڑے سے بات کی تو ہمیں بھی ہمارے کئی سوالوں کے جواب مل گئے ۔ شیخ سے گفتگو کے بعد وہ ان سے بہت زیادہ مرعوب نظر آنے لگے انہوں نے ان کے ساتھ تصاویر کھنچوائیں سیلفیاں بنائیں ۔ ان سے یروشلم میں رابطہ کرنے کے لئے معلومات حاصل کیں شیخ نے انہیں دعوت دی کہ آئندہ جب کبھی وہ یروشلم آئیں تو ان سے ضرور ملیں وہ انہیں خود مسجد اقصیٰ کی سیر کروائیں گے ، انہوں نے بڑی خوش دلی سے یہ دعوت قبول کرتے ہوئے اگلے سال دوبارہ آنے کا وعدہ کر لیا ۔
شیخ صاحب نے ہمیں ہدایت کی کہ ہم بس کے قریب کھڑے شخص سے کچھ اردنی کرنسی خرید لیں تاکہ باڈر پر ہمیں تکلیف نہ ہو ۔ میرے پاس جتنے اسرائیلی شیکل تھے صرف پانچ شیکل کا ایک نوٹ نشانی کے طور پر رکھ کر باقی سب کو اردنی دینار میں بدلوا لیا ۔ اردنی دینار بہت مضبوط کرنسی ہے اور ایک دینار ڈیڑھ امریکی ڈالر کے برابر ہے . جبکہ ایک دینار کے ساڑھے چار شیکل ملتے تھے۔
وقت رخصت شیخ العباسی نے ہمیں گلے لگایا رابطے میں رہنے کی تلقین کی اور کپڑے کا ایک تھیلا ہمارے حوالے کیا جس میں ہمارے لئے کچھ تحائف تھے ۔
پھر انہوں نے عمان کی ایک بیوہ اسکول ٹیچر کا ایڈریس دیتے ہوئے درخواست کی کہ ہم اس سے ملیں اور اس کی مدد کریں کیونکہ اس کا خاوند حال ہی میں فوت ہوا تھا اور وہ اپنے چھ بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش کے حوالے سے بہت پریشان تھی میں نے ان سے وعدہ کر لیا ۔
بس میں سب ہماراہی انتظار کر رہے تھے ہمارے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے بس آگے بڑھا دی ۔
شیخ العباسی اس وقت تک کھڑے ہاتھ ہلاتے رہے جب تک بس ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی ۔
یہ ایک منی بس تھی جس میں مسافروں کی تعداد بیس کے قریب تھی ہمارے اور اس جرمن جوڑے کے علاوہ باقی سب غالباً اردن کے فلسطینی نژاد شہری تھے ۔ جو یروشلم میں مقیم اپنے عزیزوں سے ملنے کے بعد واپس جا رہے تھے ۔ کافی سیٹیں خالی تھیں۔
جیسے ہی بس چلی مائیکل میرے پاس آبیٹھا اور پوچھنے لگا کہ کیا شیخ العباسی ہمارے کوئی عزیز ہیں ؟ جب میں نے اسے بتایا کہ نہیں ایسا نہیں ہے ۔ تو وہ بڑا حیران ہوا۔
اس کی بیوی بلال کے پاس بیٹھی تھی اور مسلسل اس سے گفتگو میں مصروف تھی ۔
وہ دونوں تین ہفتوں سے فلسطین کے دورے پر تھے اور یہاں کے ہر قابل ذکر مقام کی سیر کر چکے تھے ۔ ان میں سے اکثر مقامات کا ذکر ہم بھی پہلی بار سن رہے تھے ۔کیونکہ ہماری توجہ کا مرکز وہ جگہیں رہی تھیں جو اسلامی نقطہ نظر سے اہم تھیں جبکہ انہوں نے ہر اس جگہ کا دورہ کیا تھا جس کا تورات اور انجیل میں ذکر ہے ۔
حمزہ بھی میرے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔ وہ بڑا دلچسپ باعلم انسان تھا ۔ اس سے بات کر کے بڑا لطف آیا وہ زیادہ تر حمزہ سے ہی مصروف گفتگو رہا نجانے کیوں میرا کسی سے بات کرنے کو دل نہیں چاہتا تھا ۔ میں رخصت کے ان لمحات کو پوری طرح اپنی روح میں سمو لینا چاہتا تھا ۔ ان نظاروں کو دل کے نہاں خانوں میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لینا چاہتا تھا ۔
اس لئے میں زیادہ تر وقت کھڑکی سے باہر جھانکتا رہا ۔
یہ وہی سڑک تھی جس کے ذریعے پچھلے ہفتے ہم نبی موسیٰ اور جیریکو گئے تھے۔
تل ابیب سے شروع ہونے والی یہ سڑک ۔ ہائی وے ون اسرائیل کی مرکزی شاہراہ ہے اور اسرائیل کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے ۔ یہ جبل زیتون کے محلے الطور سے گزرتی صحرائے یہودا کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہوئی جیریکو تک جاتی ہے اور جیریکو کے باہر ایک چوراہے پر کنگز ہائی وے سے جا ملتی ہے ۔ ہائی وے ون کا یروشلم اور جیریکو کے درمیان پنتیس کلو میٹر لمبا یہ ٹکڑا ہزاروں سال پرانی اس تاریخی سڑک کے متوازی بنا ہے جسے تورات میں سرخ شاہراہ کے نام سے یاد کیا جاتاہے اور تاریخی اعتبار سے انتہائی اہم ہے ۔ سرخ شاہراہ کا ذکر پہلی بار تورات کی پہلی جلد “ پیدائش Genesis میں آتاہے جس کے مطابق حضرت ابراہیم چار مرتبہ اس سڑک کے ذریعے کنعان سے عرب تشریف لے گئے تھے ۔
یہودیوں کی تاریخ میں اس سڑک کا ذکر دوسری مرتبہ تورات کی چٹھی جلد کتاب یشوع میں آیا ہے جب چالیس سال صحرا میں بھٹکنے کے بعد یہودی حضرت یشوع کی قیادت میں کنگز ہائی وے کے ذریعے جیریکو سے جلیل” (Gilgal) کے مقام پر کنعان میں
داخل ہوئے تھے اور پھر اسی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے یروشلم اور ہیبرون تک پہنچے تھے ۔
سرخ شاہراہ صحرائے یہودہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے اور اسے تورات میں معالی ادومیم Ma’ale Adumim سرخ سرحد بھی کہا گیا ہے کیونکہ یہ دو یہودی قبیلوں کے درمیان سرحد کا کام کرتی تھی ۔ اس کے دائیں جانب یہودہ قبیلہ اور بائیں جانب بنیامین ( بنجمن ) کا قبیلہ آباد تھا ۔
عیسائیوں کے نزدیک بھی یہ شاہراہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ تین بار اس شاہراہ کے ذریعے یروشلم میں داخل ہوئے تھے ۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران 1917ء میں جنرل ایلن بی کی افواج کے آسٹریلوی دستے اسی راستے سے فلسطین میں داخل ہوئے اور انہوں نے پہلی بار دریائے اردن کو عبور کرنے کے لئے لکڑی کا ایک پل تعمیر کیا تھا جسے ایلن بی بریج کہا جاتا ہے ۔
میں اپنی انہی سوچوں میں گم تھا کہ حمزہ نے میری توجہ قبہ الصخرہ کے خوبصورت نظارے کی طرف دلوائی ہم یروشلم شہر سے گزر کر جبل زیتون پر پہنچ گئے تھے اور نیچے کیدرون وادی کے اس پار شہر کی فصیل کے پیچھے قبہ الصخرہ کا سنہری گنبد سورج کی روشنی میں بڑی عجیب بہار دکھا رہا تھا ۔
“ یقیناً یہ یروشلم کی سب سے خوبصورت عمارت ہے “
مائیکل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا : یہ مسجد اقصیٰ اور اس سنہری گنبد کا آخری نظارہ تھا جو میں نے دیکھا اور ابھی جی بھر کر دیکھ بھی نہیں پایا تھا کہ بس آگے بڑھ گئی ۔ ہائی وے ون پر بنی ٹنل کے ختم ہوتے ہی چیک پوسٹ آگئی ۔ جس پر بس کو روک لیا گیا
چار نو عمر اسرائیلی سپاہی بس کے اندر داخل ہوئے اور ان کا لیڈر ایک گنجا لمبا چھریرے بدن کا دبلا پتلا شخص تھاجس نے ٹوپی اپنے کندھے میں اڑس رکھی تھی اس نے عقابی نظروں سے بس میں بیٹھے مسافروں کو دیکھا بس کے ڈرائیور سے عبرانی میں کچھ پوچھا اور اپنے سپاہیوں کے ہمراہ نیچے اتر گیا ۔ڈرائیور نے بس آگے بڑھا دی ۔ پھر ہم سرخ شاہراہ پر قائم یہودیوں کی دو بڑی نوآبادیوں کے درمیان سے گزرے جو انہوں نے یہودہ قبیلے اور بنیامین قبیلے کی یاد میں بنا رکھی ہیں
معالی ادومیم کے بالمقابل ہائی وے ون کے دائیں جانب ایک اور یہودی بستی ہے جس کا نام كفر أدوميم Kfar Adumim ہے اور ان دونوں بستیوں میں تقریباً ساٹھ ہزار یہودی آباد ہیں جن کی اکثریت یورپ سے آئے اشکنازی یہودیوں پر مشتمل ہے ۔ كفر أدوميم Kfar Adumim کے پہلو میں الخان احمر کی پرانی بستی ہے جہاں صحرائے یہودا میں رہنے والے عرب بدو صدیوں سے آباد ہیں۔ یہودیوں کی یہ دونوں نوآبادیاں یہ بدوؤں کی زمین پر زبردستی قبضہ کر کے بنائی گئی ہیں جس کا مقدمہ آج پچاس سال بعد بھی اسرائیلی عدالت میں زیر سماعت ہے ۔الخان الاحمر کے عقب میں ایک ٹیلے پر ہیروڈیس اعظم کے محل کے کھنڈرات نظر آرہے تھے ۔ ہیروڈیس اعظم پہلی صدی عیسوی میں اس علاقے کا یہودی گورنر تھا جس نے یہودیوں کا ہیکل ثانی بنایا تھا ۔ اس سے ذرا پیچھے وادی القلط پہاڑی پر بنا شیشہ کی خانقاہ (St. George’s Monastery / Deir al-Qelt) نظر آرہی تھی جو پانچویں صدی کے دوران پہاڑی کی ایک چٹان میں تراشی گئی ہوئی حیرت انگیز خانقاہ ہے اس تک پہنچنے کا راستہ بھی ایک مہم جوئی کی حثیت رکھتاہے ۔
اس سے کوئی دس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک ذیلی سڑک نبی موسیٰ کی جانب جاتی ہے ۔ جہاں اس علاقے کی سطح سمندر سے پیمائش کا بورڈ لگا ہے ۔ یہ سارا علاقہ سطح سمندر سے کوئی ایک کلومیٹر نیچاہے ۔ جبل زیتون سطح سمندر سے تقریباً پانچ سو فٹ بلند ہے درحقیقت جبل زیتون سے نکلتے ہی اترائی کا یہ غیر محسوس سفر شروع ہو جاتاہے اور جیریکو تک پہنچتے پہنچتے آپ سطح زمین سے بارہ سو فٹ نیچے آ چکے ہوتے ہیں ۔
ویسٹ بینک میں شامل جیریکو دنیا کے قدیم ترین مسلسل آباد شہروں میں سے ایک ہے اور یروشلم سے بتیس کلو میٹر دور ہے اس کی سب سے خاص بات اس کی سطح سمندر سے بلندی ہے جو اس شہر کو دنیا کا سب سے نچلا اور گہرا شہر بنا دیتی ہے۔
بحیرہ مردار دنیا کا سب سے گہرا زمین کا ٹکڑا ہے جو سطح سمندر سے تقریباً 430 میٹر (1,412 فٹ) نیچے واقع ہے۔
جیریکو بحیرہ مردار کے کنارے بحیرہ مردار کی سطح سے تقریباً 180 میٹر بلند ہے۔
جیریکو گیارہ ہزار سال پرانا شہر ہے ۔ یہاں ہونے والی کھدائی کے نتیجے میں آٹھ تہذیبوں کی تئیس (23) تہوں کے آثار ملے ہیں ۔ درحقیقت یہ دنیا کا قدیم ترین اورنیچا گہرا ترین (Lowest city) شہر ہے جس کی کوکھ سے انسانی تہذیب و تمدن نے جنم لیا ۔
جیریکوکا اصل نام اریحا ہے یہاں کے مقامی عرب باشندے آج بھی اسے اریحا کے نام سے ہی پکارتے ہیں جس کا مطلب ہے چاند کیونکہ یہاں کے قدیم سامی باشندے چاند ستاروں کی پوجا کیا کرتے تھے ۔ اسرائیل بننے کے بعد اس کا سرکاری نام جریکو رکھ دیا گیا جو عبرانی زبان کا لفظ ہے ۔
جیریکو محض ایک شہر نہیں ہے بلکہ ایک زندہ تاریخ اور ایک جغرافیائی عجوبہ ہے۔ یہ سیاحوں کو قدیم ترین کھنڈر، لوک داستانوں کی خوشبو میں گندھے مذہبی قصے ، قدرتی چشمے، پہاڑی خانقاہیں، اور بحیرہ مردار کا انوکھا تجربہ—سب کچھ ایک ہی جگہ پر اس طرح پیش کرتا ہے کہ یہاں کا سفر ایک ناقابل فراموش یاد گار بن کر رہ جاتا ہے ۔
وادی اریحا فلسبین کی زرخیز ترین اور خوبصورت ترین وادی ہے جو عین السلطان جیسے اپنے قدرتی چشموں کی وجہ سے سرسبز و شاداب ہے اور کھجور کے باغات کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی “اریحا کھجور” دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ وادی اتنی خوبصورت ہے کہ اس علاقے کے امراء اور بادشاہ یہاں اپنی رہائش گاہیں اور محلات تعمیر کروانا بمفخر سمجھتے تھے ۔
تاریخی اور مذہبی دونوں اعتبار سے یہ تینوں ابراہیمی مذاہب کے لئے بہت اہم شہر ہے
تورات کے مطابق، حضرت موسیٰ کے جانشین یوشع بن نون کی قیادت میں بنی اسرائیل نے یہاں کی دیواروں کا محاصرہ کیا اور معجزانہ طور پر فتح پائی۔ عیسائیوں کی روایات کی رو سے یہ وہ شہر ہے جہاں حضرت عیسیٰ کو پیغمبری نصیب ہوئی تھی ۔
مسلمانوں کے نزدیک یہ وہ جگہ ہے جو اللہ کے عذاب کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی جو قوم لوط پر نازل ہوا تھا ۔
بحیرہ مردار کے قریب ایک پہاڑی پر ایک عورت کی شکل کا مجسمہ ہے جس کے بارے میں · بائبلی روایت (کتاب پیدائش 19:26) ہے کہ جب عذاب آیا تو لوط کی بیوی “نمک کا ستون” بن گئی تھی اس چٹان کو لوط کی بیوی کا ستون” (Pillar of Lot’s Wife) کہا جاتا ہے ۔
قرآن مجید میں سورہ الصافات (آیت 134) اور سورہ الحجر (آیت 60) میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے واقعے کا ذکر ہے۔ ان کی بیوی نے بھی کافروں کا ساتھ دیا تھا، جس پر وہ بھی عذاب کا نشانہ بنی ۔
یہ مقام بحیرہ مردار کے کنارے جبل أسدوم (جبل السدوم) کے قریب واقع ہے، جہاں تاریخی طور پر سدوم شہر ( حضرت لوط کا شہر ) واقع تھا ۔
بحیرہ مردار کا زیادہ تر علاقہ اردن میں شامل ہے ۔
ہائی وے ون کے دائیں جانب وہ ٹیلہ نظر آرہا تھا جسے تل السلطان Tell us Sultan کہتے ہیں اس پر گیارہ ہزار سال پرانے قدیم اریحا کے کھنڈرات ہیں ۔
محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق ان کھنڈرات سے انسانی تہذیب کی تئیس (23 ) تہیں ملی ہے جو آٹھ مختف تہذیبوں کی نشاندہی کرتی ہیں ،اس ٹیلے پر آپ کو دنیا کے قدیم ترین پتھر کے مینار stone tower اور دنیا کی قدیم ترین دیواریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ مقام UNESCO کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے۔
تل السلطان پر ہی دسویں اموی خلیفہ ہشام بن عبدالمالک کے محل کے کھنڈرات (Hisham’s Palace / Khirbet al-Mafjar) ہیں اس محل کی تعمیراتی اور آرائشی خوبصورتی آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ خاص طور پر اس کا مشہور پچی کاری والا Mosaic فرش ایک عجوبہ روزگار کا درجہ رکھتا ہے جسے “ شجرۃ الحیات” درختِ زندگی کا نقش کہتے ہیں
یہ محل کے ایوانِ استقبال (Reception Hall) کے فرش پر بنائی گئی ایک تصویر ہے۔
جس میں ایک طاقتور اور پھل دار درخت کے نیچے دو ہرن شیر پر حملہ کرتے دکھائے گئے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک دوسرا ہرن بے فکری سے کھڑا گھاس چر رہا ہے۔
ہشام بن عبدالملک کو آخری بڑا اموی خلیفہ مانا جاتا ہے جس کی 743ء میں وفات کے بعد اموی خلافت پر اتنی تیزی سے زوال آیا محض 11 سال کے اندر عباسیوں نے 750ء میں اموی خلافت کا خاتمہ کر دیا ۔
تل السلطان کے مغرب میں ہائی وے ون کے بائیں جانب کوئی دو کلو میٹر دور تقریباً 350 میٹر اونچی پہاڑی چوٹی جبل قرنطل (Mount of Temptation / Mount Quarantal) واقع ہے ۔
جو عیسائیوں کے لئے بے انتہا مذیبی اہمیت کی حامل ہے ۔
متی (4:1-11) اور لوقا (4:1-13 ) کی تحریر کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام بپتسمہ لینے کے بعد 40 دن اور 40 رات تک اس پہاڑی کے ایک غار میں روزہ رکھ کر گوشہ نشین رہے۔ یہاں شیطان (ابلیس) نے انہیں پتھروں کو روٹی بنانے، معجزہ دکھانے، اور دنیا کی بادشاہت کی پیشکش کے ذریعے تین بار آزمائش میں ڈالا اور تینوں بار حضرت عیسیٰ نے اسے رد کر دیا۔ اسی لیے اسے “آزمائش کا پہاڑ” (Mount of Temptation) کہا جاتا ہے۔ اور یہیں انہیں پیغمبری ملی تھی ۔
اس جگہ بارہویں صدی کے صلیبی دور کا ایک یونانی آرتھوڈوکس گرجا قائم ہے جو پہاڑی کی ڈھلوانوں میں ایک قدرتی غار کے اندر اور اس کے ساتھ تعمیر کیا گیا ہے، یہ ایک انتہائی دیدہ زیب اور حیرت انگیز تعمیر ہے۔
موجودہ عمارت 12ویں صدی کے صلیبی دور میں تعمیر ہوئی تھی، لیکن اس جگہ پر چھٹی صدی سے راہبوں کی موجودگی کے ثبوت ملتے ہیں۔
مزار کے اندر وہ اصل غار بھی موجود ہے جہاں روایت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قیام کیا تھا۔ اس غار میں ایک چٹان ہے جسے “عیسیٰ کی چٹان” کہا جاتا ہے۔
پہاڑی کی چوٹی تک پہنچنے کا سب سے آسان اور پرلطف ذریعہ جریکو کیبل کار (Jericho Cable Car / تلفريك) ہے، جو اریحا شہر کے مرکز سے براہ راست مزار تک لے جاتی ہے۔
کیبل کار سے پورے اریحا شہر، کھجور کے باغات، قدیم جیریکو کے کھنڈر، اور دور دور تک بحیرہ مردار اور اردن کی وادی کے شاندار مناظر کا نظارہ کرنا خود بھی ایک دلفریب یادگار اور ناقابل فراموش تجربہ ہے ۔
تل السلطان کی چوٹی سے ہی عین السلطان (Elisha’s Spring) کا مشہور اور قدیم چشمہ بھی نظر آتا ہے جو اریحا شہر کے بیچوں بیچ ایک چوراہے میں واقع ہے یہ قدیم چشمہ ہزاروں سال سے جیریکو شہر میں آباد زندگی کی ضمانت ہے اور شہر میں میٹھے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ بھی ۔ روایت ہے کہ حضرت الیسع علیہ السلام نے اس کے پانی کو پینے کے قابل بنایا۔اسے حضرت خضر کے چشمہ حیات سے بھی تشبہیہ دی جاتی ہے ۔
جیریکو شہر کے عقب میں صرف دس پندرہ منٹ کی دوری پر بحیرہ مردار (Dead Sea) کا پانی سورج کی تیز روشنی میں چمک رہاتھا دنیا کا سب سے نچلااور گہرا قطعہ ارض ہونے کی وجہ سے بحیرہ مردار میں نمک کی اتنی زیادہ مقدار موجود ہے کہ نہ تو اس پانی میں کوئی جاندار چیز زندہ رہ سکتی ہے اور نہ کوئی چیز اس میں ڈوب سکتی ہے ۔ اس میں تیرنے کاتجربہ دنیا کاایک ایسا انوکھا ترین تجربہ ہے کہ آپ چاہتے ہوئے بھی اس سمندر میں ڈوب نہیں سکتے ۔
دور مغرب میں قمران کی پہاڑیاں نظر آرہی تھیں جن کی غاروں سے 1947 سے 1956 کے درمیان قمران کے مخطوطات برآمد ہوئے تھے انہیں بحیرہ مردار کے طومار بھی کہا جاتا ہے ۔
یہ طومار یہودی مذہب تاریخ، علم النقد اور آثار قدیمہ کے میدان میں ایک انقلابی دریافت سمجھے جاتے ہیں جو ہمیں قدیم دنیا کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرتے ہیں۔
ان مخطوطات میں جدید بائیبل ( انجیل )کے قدیم ترین نسخے عبرانی بائبل (عہد نامہ قدیم ) یا تورات کی تقریباً تمام کتابوں کے حصے شامل تھے جن میں سے کچھ موجودہ نسخوں سے 1,000 سال قدیم ہیں۔ یہ مخطوطات تقریباً 200 قبل مسیح سے 70 عیسوی کے درمیان لکھے گئے۔
انہیں غالباً ایسی این فرقے کے لوگوں نے لکھا اور محفوظ کیا تھا جو قمران میں رہتے تھے۔
یہ زمانہ دوسرے ہیکل کے دور کا ہے، جو ابتدائی یہودیت اور مسیحیت کے ارتقاء کا اہم دور تھا۔ جب رومیوں نے 70 عیسوی میں ہیکل ثانی کو تباہ کرنے کے بعد یہودیوں کو جلا وطن کر دیا تھا ۔
یہ مخطوطات بائبل کے متن کی درستگی کی تصدیق کرتے ہیں۔
دوسرے ہیکل کے دور کے یہودی فرقوں اور عقائد پر روشنی ڈالتے ہیں اور ابتدائی مسیحیت کے مذہبی ماحول اور معاشرت کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔
زیادہ تر مخطوطات یروشلم کے اسرائیلی میوزیم میں “کتاب کے شہنشاہ” کے حصے میں رکھے گئے ہیں۔
ہم نے اس کے کچھ حصے اردن کے شاہ حسین عجائب گھر میں بھی دیکھے ۔
ہمیں یروشلم سے جریکو شہر سے باہر موجود اس چوراہے تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگا ۔ یوں تو کہنے کو یہ صرف ایک گھنٹے کا سفر تھا ہم گیارہ بجے بس اسٹاپ سے نکلے اور بارہ بجے جیریکو پہنچ گئے تھے، لیکن یہ ایک گھنٹے کا سفر صدیوں کا سفر تھا ۔ ہزاروں سال پر محیط ، جس کے ہر ہر لمحہ پر تاریخ انسانی رقم تھی جس سفر کے ہر ہر قدم پر انسانی تہذیب وتمدن کے عروج وزوال کی چھاپ نظر آئی ۔
اسرائیل اور اردن کے درمیان تین فعال سرحدی کراسنگ موجود ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے 1994ء کے امن معاہدے کے تحت کام ہوتا ہے ۔جیریکو شہر کے باہر والے چوراہے سے ایلن بی پل کا سفر صرف پانچ منٹ کا ہے ۔ ایلن بی پل کو اردن کے لوگ کنگ حسین پل کہتے ہیں یہاں ہر چیز عسکری کنٹرول اور سکیورٹی کے گرد گھومتی ہے۔
یہ ایک عام اسٹیل ٹرَس پل ہے، جس میں کسی خاص تعمیری خوبصورتی اور ڈیزائن کی بجائے کے بجائے محض مضبوطی ، سادگی اور سیکورٹی نقطہ نظر پر زور دیا گیا ہے اور نہ ہی اسے بھاری ٹریفک کے لئے بنایا گیا ہے
یہ زیادہ تر ہلکی گاڑیوں اور پیدل مسافروں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نسبتاً چھوٹے اور تنگ دو میل لمبے اس پل کو دریائے اردن کے خشک اور تنگ حصے پر بنایا گیا ہے۔
یہاں پہنچتے ہی عجیب سی وحشت اور عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے ۔
میں نے یورپ کے سفر کے دوران کئی بار دو ملکوں کے درمیان زمینی سرحد پار کی لیکن کبھی کبھی تو سرحد پار کرنے کا پتا ہی نہیں چلتا تھا۔لیکن یہاں اردن اور اسرائیل کے بارڈر پر پہنچتے ہی ایک عجیب طرح کے ان دیکھے خوف نے جکڑ لیا تھا ۔دونوں ملکوں کے حالات انسانی حقوق کے حوالے سے ایک جیسے ہیں اس لئے اس پل کے بارے میں سنی اور پڑھی خوفناک کہانیاں یاد آنے لگی تھیں۔
اس پل کے اردگرد کے ماحول نے اس وحشت اور ڈر میں اور بھی اضافہ کر دیا تھا ۔ اس پل کے سامنے پیلے رنگ کی سادہ سی عمارت میں امیگریشن ٹرمینل بنا تھا جس کے اردگرد دور دور تک خالی، صحرائی اور بے آب وگیاہ پہاڑی علاقہ تھا جس میں سبزہ خال خال ہی نظر آتا تھا ۔ اگر درختوں کے نام پر کوئی چیز موجود تھی تو وہ خاردار خودرو جھاڑیاں تھیں
پل کے دونوں طرف اسرائیلی اور اردنی فوجی اہلکار نظر آ رہے تھے ۔ ہر طرف اونچی باڑھ، سیکورٹی کیمرے، لاؤڈ اسپیکر، روشنی کے مینار اور چیک پوسٹس بنی تھیں ۔
پل کے نیچے دریائے اردن کا گدلا پانی بہہ رہاتھا جسے دریا کہنا ہی دریا کی توہین تھی اس کی حثیت ایک گدلے چھوٹے نالے سے زیادہ نہیں تھی جسے دیکھ کر اس دریا کے بارے میں سنی اور پڑھی ساری تاریخی مذہبی اور رومانوی کہانیاں ہوا ہو گئیں ۔
مجموعی طور پر یہ سارا ماحول اور علاقہ انتہائی غیر دلچسپ وحشت ناک اور پراسرار محسوس ہوتا تھا۔ جسے دیکھ کر دل کانپ کانپ جاتا تھا ۔


امیگریشن ٹرمینل پر خاصی چہل پہل تھی ہر طرف گنیں تانے درشت چہروں والے اسرائیلی سپاہی گھوم پھر رہے تھے ۔ گاڑیوں کی لمبی دو قطاریں تھیں جو بیرئرز کے دونوں طرف لگی تھیں ۔
ٹرمینل کی عمارت پر ہمیں بس سے اتار کر ہمارے پاسپورٹ تحویل میں لے لئے گئے اور سامان پر ٹیگ لگاکر اس کاایک حصہ ہمارے حوالے کر کے اسے بھی اپنے قبضے میں کر کے ہمیں ٹرمینل کی عمارت کے اندر دھکیل دیا گیا ۔ انگریزی اور عبرانی زبان کے امدادی اشارات والی تختیاں بہت غیر واضح مبہم اور پیچیدگی سے بھر پر تھیں خوش قسمتی سے ہمیں ایک تجربہ کار فلسطینی فیملی کی معاونت میسر آگئی جو شاید ہر سال اسے رستے سے گزرتی تھی ایک سو پچھتر شیکل فی کس کی ایگزٹ فیس ادا کرنے کے بعد یوں بظاہر ناممکن نظر آنے والا یہ مرحلہ طے ہو گیا اور اتنی آسانی سے طے ہوا کہ ہمیں یقین نہیں آرہاتھا ۔ ساری دنیا کا سفر کیا تھا ہر ملک میں انٹری فیس تو لی جاتی ہے لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ ایگزٹ فیس بھی اداکی تھی ۔
جب اسرائیلی امیگریشن افسر نے ہمارے پاسپورٹ ہمارے حوالے کرتے ہوئے عبرانی لہجے کی اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہمیں اپنا سامان حاصل کرنے کی تلقین کی تو سامان کو صحیح سلامت پا کر اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کیونکہ چند دن پہلے ہی جب ہمارے گروپ کے افراد تل ابیب ائیرپورٹ سے عمرہ کی غرض سے سعودی عرب گئے تھے تو ان سے بہت ناروا سلوک کیا گیا تھا۔ انہیں بغیر کسی وجہ کے بورڈنگ پاس دینے کے بعد جہاز میں سوار ہونے سے روک لیا گیا اور ڈاکٹر امنیہ نے بتایا تھا کہ ان کے سوٹ کیس کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے بیگ پھٹا ہوا تھا ساری چیزیں الٹ پلٹ تھیں اور کسی نے بہت بے رحمانہ اندازمیں ان کے سامان کی تلاشی لی تھی اور کئی چیزیں غائب تھیں ۔ کچھ ایسے ہی سلوک بلکہ اس سے بدتر سلوک کی توقع ہمیں بھی تھی بلکہ ہم نے تو زمینی بارڈرکراسنگ کی انتہائی خوفناک کہانیاں سن رکھی تھیں ۔اور ہم کسی بھی قسم کی بری صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار تھے لیکن جو کچھ ہوا وہ سب کچھ بہت خلاف توقع اور خوشگوار اور غیر متوقع تھا ۔
اپنا سامان حاصل کر کے ہم ٹرمینل کے باہر کھڑی شٹل بس میں آ بیٹھے جو صرف پل کے پار لے جانے کے لئے مخصوص تھی ۔
یہاں ہم سے پانچ دینار فی کس اور ڈیڑھ دینار فی سوٹ کیس کرایہ وصول کیا گیا ۔ مسافر پورے ہوتے ہی بس چل پڑی ۔ یہ ایک بڑی بس تھی جس میں مسافروں کی اکثریت غیر مانوس چہروں پر مشتمل تھی ،کئی ایسے چہرے بھی نظر آئے جو واضح قطع سے پاکستانی لگتے تھے ۔ یہیں امریکہ سے آئے ڈاکٹر یوسف سے ملاقات ہوئی جو کراچی ڈاؤ میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل تھے اور عرصے سے لوئزیانا امریکہ میں مقیم ہیں۔
ان سے بات چیت شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ بھی میری طرح دور طالبعلمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک رہ چکے ہیں اور تقریباً میرے ہم عصر ہی تھے وہ اردن کسی میڈیکل کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے تھے اور اپنی بیگم کے ساتھ ایک دن کے لئے یروشلم بھی چلے آئے تھے ان کی زبانی سن کر اندازہ ہوا کہ اردن آنے والے بہت سے لوگ ایک ایک دن کے لئے بھی مسجد اقصیٰ کا دیدار کرنے آجاتے ہیں ۔ صبح آتے ہیں شام واپس چلے جاتے ہیں ۔
ان سے گفتگو کے دوران پندرہ بیس منٹ کا اسرائیل سے اردن کے درمیان کے اس نومین ایرئیے No man area کا سفر کیسے گزرا پتہ ہی نہ چلا ۔ شٹل سروس کی بس پل پار کر کے اردن پہنچ گئی ۔
اردن کی جانب ایک شاندار عمارت پر مشتمل امیگریشن کا علاقہ بہت مختلف تھا ۔ ہر طرف بہت رونق اور چہل پہل تھی اس سرحدی گاؤں کا نام الشونة الشمالية ہے ۔
بس سے اترتے ہی ہماری نظر ایک شخص پر پڑی جو حمزہ سربلند کے نام کی تختی اٹھائے کھڑا تھا ۔
یہ عبدالکریم تھا ۔ اردن میں ہمارا ٹورسٹ گائیڈ جس کی خدمات حمزہ نے ایک دن پہلے ہی آن لائن حاصل کی تھیں ۔
اس نے ہمیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور ہمارے پاسپورٹ لے کر غائب ہو گیا چند ہی منٹ کے بعد واپس آیا تو ہمارے امیگریشن کے سارے مراحل خوش اسلوبی سے طے ہو چکے تھے ڈاکٹر یوسف اور ان کی بیگم کو خدا حافظ کہہ کر اور ان سے شام کو عمان میں عشائیے پر ملاقات کا وعدہ کر کے ہم عبدالکریم کے ساتھ لائی وین میں بیٹھ گئے جس نے ہمیں ایک گھنٹے میں عمان کے مرکزی علاقے میں واقع ہمارے ہوٹل میں پہنچا دیا عبدالکریم اگلے دن ملنے کا وعدہ کر کے رخصت ہو گیا ۔
صرف چار گھنٹے کے بعد ہم اپنے ہوٹل کی بالکونی میں بیٹھے قہوہ پیتے ہوئے اور اپنے سامنے پھیلے قدیم رومی دور کے کھنڈرات کو دیکھتے ہوئے اپنے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہم اسرائیل میں نہیں عمان میں ہیں ۔ مقدس سرزمین سے جڑی یادیں دل میں بسی تھیں دل مسجد اقصیٰ سے دوری پر اداس تو ضرور تھا لیکن نہ جانے کیوں ایک انجانی سی خوشی بھی تھی جو کسی بہت بڑے مرحلے کو طے کرنے کےبعد نصیب ہوتی ہے۔

آنے والی کتاب ’اہل وفا کی بستی‘ کا اختتامی باب جو فلسطین کا سفر نامہ ہے
www.drtasawarbhutta.com

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: