ٹریفک کے قوانین کے تحت بہت سے انتباہی پیغامات سڑکوں کے کنارے نظر آتے ہیں جن کا مقصد اپنا اور دوسروں کا دفاع مقصود ہوتا ہے ۔ ان میں اسپیڈ بریکر وہ انتباہ ہے جس پہ ہرڈرائور کو عمل کرنا ہی ہوتا ہے یہ عموماً اسپتال ، تعلیمی اداروں ، شاہراہ پہ قریبی بستیوں کے سامنے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات رہائشی علاقوں میں ان کی بھر مار ہوتی ہے جن سے ڈرائور جزبز ہوتے ہیں ۔ اور عموما ان کو کار بریکر کہہ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرتے ہیں۔
اسپیڈ بریکر کا غیر متوقع سامنا ہو جائے تو اپنی دھن میں مگن رواں دواں ہونے والے ڈرائیور کے لئیے جھنجھلائے بغیر خیالات اور سواری کی رفتارپہ قابو رکھنا ہی باعث عافیت ہوتا ہے ۔
انسانی زندگی کی شاہراہ کے ہر موڑ پہ قدرت نے بھی انتباہی بورڈ آویزاں کر رکھے ہیں اور انسانی نفسیات کو اس کا فطرتا ادراک ہوتا ہے ۔ اور یہ ادراک ہراس ذمہ دار کو ہوتا ہے جو اخلاق میں بلند مقام رکھتا ہے ۔
سب سے پہلی ذمہ داری والدین کو سونپی گئ۔ بچے کی دنیا میں آمد کے ساتھ ہی زچہ و بچہ کی صحت کے پیش نظر بزرگ ماؤں کی طرف سے انتباہی ہدایات جاری ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔
ماں کی خصوصی توجہ نومولود کی حرکات و سکنات پہ مرکوز ہو جاتی ہے وہ اپنے دفاع اور نفع و نقصان سے بے بہرہ ہے وہ معصوم اپنے والدین کے محفوظ ترین سایہ میں پرورش پاتا ہے اور اس کی محفوظ زندگی کے لیے انتباہی پیغام والدین کو فطرتا ودیعت کر دئے گئے ہیں ۔
بچہ چند دن کا ہو تو اس کی حفاظت کی خاطر اس کے گرد کپڑے کا حصار رکھا جاتا ہے بستر سے نیچے نہ گر جائے تو اس کے محفوظ رہنے کے انتظام کئے جاتے ہیں ۔ گھٹنوں کے بل چلنے کے دوران اور پاؤں پاؤں چلنے کی مشق میں گھر میں جا بجا اسپیڈ بریکر لگائے جاتے ہیں ۔ ان جانے میں سیڑھیاں چڑھنےیا اترنے سے باز رکھنے کی خاطر آڑ رکھ دی جاتی ہے ۔ ذرا بڑا ہوا تو ان جانے میں گھر سے باہر نکل جانے کا خوف دروازے کو بند رکھنے پہ مجبور کرتا ہے گویا والدین ایک ایسا حفاظتی حصار ہیں جن کی نگاہیں اور پوری توجہ اپنی اولاد کو انتباہی پیغام پہنچانے کوہر بات پہ ترجیح دیتی ہیں ۔
اسی طرح تعلیمی ادارے اپنے طالب علموں کا دفاع کرنے کے لیے زندگی کے سرد و گرم میں نفع و نقصان کا شعور دیتے ہیں ۔
انسانی جسم کا ہر عضو حیرت انگیز طور پہ انسان کو بڑی تکلیف سے پہلے متنبہ کرتا ہے ۔
درد کا احساس انسان کے لئے بہت بڑی سہولت اور ایک ایسا انتباہ ہے جیسے سڑک پہ چلتے چلتے اسپیڈ بریکر آجائے ۔
درد کا احساس نہ ہوتا تو انسان بیماری کے آخری سٹیج تک پہنچ جاتا ۔
درد جسمانی ہو تو احساس تو ہوتا ہے خود کو نظر آتا ہے نہ دوسروں کو مگر تکلیف کی کیفیت انسان کے ظاہرسے لگائی جا سکتی ہے ۔ انسان بار بار جسم کے اس حصے کو دباتا ہے ۔ درد کی کیفیت بتاتا ہے معالج اپنی علمی و عملی قابلیت کے تحت دوا تجویز کرتا ہے ۔ گویا کہ درد ایک ایسا اسپیڈ بریکر یا الارم تھا جس نے انسان کی اندھا دھند مصروفیات کی دوڑ میں رکاوٹ پیدا کی تاکہ اپنی رفتار کو کم کر کے کچھ اپنے بارے میں غورو فکر کرے تاکہ ناقابل تلافی نقصان سے بچا جا سکے ۔
کچھ لوگ سڑک پہ اسپیڈ بریکر کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ ہی جسم میں درد کے إحساس کی پروا کرتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ اور دوسرے بھی اس سے کم یا زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔
مادی و جسمانی نقصان کی تلافی کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے ۔ قانون کے انتباہی ہدایات و پیغامات کو اہمیت نہ دینے کے نتائج جیل یا جرمانہ کی صورت میں بھگتنے پڑتے ہیں اور اس کےمنفی اثرات معاشرے میں تعلق داری پہ بھی پڑتے ہیں۔ انتباہی پیغام یا ہدایات کی پرواہ نہ کرنا کسی بھی معزز انسان کو زیب نہیں دیتا ۔
زندگی کے ہر دور اور ہر عمر میں سیکھنے اور آگے بڑھنے ، کامیابی کی راہ پہ گامزن رہنے کے لیے انتباہ لازمی امر ہے ۔اور یہ محبت اور خلوص کی نشانی ہے ۔
انسان کا اپنی اولاد سے محبت کا جذبہ ہی اس کو نقصان سے بچانے کے لیے انتباہی رکاوٹیں بناتا ہے ۔
ریاست ماں کا کردار ادا کرتی ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔
حکومت نے گلیوں سڑکوں اور شاہراہوں پہ انتباہی بورڈ لگا دئے کہ مسافر اپنی منزل پہ خود بھی آسانی اور حفاظت سے پہنچیں اور دوسروں کے لیے بھی سلامتی کا عنوان بنیں ۔ انسانوں کے خالق نے بھی انسانوں کی زندگی کی شاہراہ پہ قدم قدم پر انتباہی ہدایات دینے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنی منزل مراد جنت تک بخیر و خوبی پہنچ سکیں ۔
انسان کے باطن میں ایک ایسا احساس رکھا گیا ہے جو کھانے پینے کے معاملات میں بھی اسپیڈ بریکر کا کام دیتا ہے ۔ بھوک کا احساس باقی مصروفیات پہ بریک لگاتا ہے اور کب ہاتھ روک لینا ہے یہ بھی فطرت نے تربیت کی ہے جو ان دو احساسات کو پامال کرتے ہیں اپنے جسم پہ زیادتی کرتے ہیں ۔
ضمیر یا نفس لوامہ ایک ایسا انتباہی احساس ہے کہ جب انسان اس پہ توجہ دیتا ہے تو کردار سنورنا رہتا ہے ۔
جب گناہ کرتے ہوئے دل کی دھڑکن تیز ہوجائے تو گویا انتباہی الارم بج رہا ہے ۔ جس طرح بگٹٹ بھاگنے سے دل کی رفتار تیز اور سانس نا ہموار ہوجاتا ہے اسی طرح آخرت کو نظر انداز کرکے دنیا کی دوڑ میں بھاگنا تھکا دیتا ہے ضمیر کا الارم اپنا فریضہ سر انجام دیتا رہتا ہے لیکن گھڑی پہ الارم لگا کر نیند میں مگن رہیں اور الارم کی پروا نہ کریں تو ایک خاص وقت کے بعد الارم خاموش ہو جاتا ہے بعینہ ضمیر بھی اپنے حصے کا کام کرکے چپ ہو جاتا ہے ۔ جس طرح ہم نیند سے جاگنے کے لیے ہر روز الارم لگاتے ہیں ضمیر بھی انسان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کو پھر سے ڈیوٹی سنبھال لیتا ہے ۔
ضمیر ہمیں ایک ذمہ دار شہری بننے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں اپنے اعمال کے نتائج کا احساس دلاتا ہے۔ ضمیر ہمیں دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور احترام کا رویہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور بہتر انسان بننے میں مدد کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، ضمیر ہمیں ایک فرد کے طور پر ترقی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی اقدار اور عقائد کو سمجھنے اور ان کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔
مختصراً، ضمیر ایک ایسا تحفہ ہے جو ہمیں ایک بہتر انسان بننے اور ایک بہتر معاشرہ بنانے میں مدد دیتا ہے اور ہمیں حقوق و فرائض کی ادائی پہ تیار کرتا ہے ۔
اللہ تعالی نے اولاد آدم کو ساری مخلوق میں اکرام عطا فرمایا:
“یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو اکرام سے نوازا اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیااور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔”
( بنی اسرائیل:70)
آنکھ ،کان ،زبان اور افکار کی رفتار پہ نگاہ رکھنا اور جہاں ضبط کا انتباہ آجائے اس پہ عمل کرنا کامیابی کی دلیل ہے ۔
” بے شک سماعت ۔ بصارت اور فؤاد( وہ دل، جس کے کہنے پہ عملی اقدام ہوا ) ہر اک کے بارے میں سوال ہوگا “
(بنی اسرائیل: 36)
یقین جانئے انتباہی پیغام ہمیں ہر اچھے کام پہ دل کی تسکین کا احساس دلا کر کیا جاتا ہے تو ہر چھوٹی سے غلطی پہ دل کی بے چینی ہمارے منفی افکار و اعمال کی اسپیڈ کو روک دیتی ہے۔
آنکھ ،کان ،زبان اور افکار کی رفتار پہ نگاہ رکھنا اور جہاں ضبط کا انتباہ آجائے اس پہ عمل کرنا کامیابی کی دلیل ہے ۔
خاتم النبیین محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان مبارک سے خوش خبری بھی ایسے فرد کا مقدر ہے :
’جس شخص کو اس کی نیکی خوش کر دے اور برائی رنجیدہ کر دے (اور وہ اس سے باز آجائے‘) وہی سچا مومن ہے۔‘ : الترمذي
اسپیڈ بریکر
















