تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
گر حسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہِ مصطفیٰ پنہاں بگیر
نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ بڑے دنوں کے بعد دادی جان کی آواز سنائی دی مختصر سے باغیچے میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ ترین اشعار ہمیشہ کی طرح ایک جذب کے ساتھ پڑھتی جا رہی تھیں۔ بچپن سے سن سن کر ہر ہر لفظ بھی ازبر تھا اور مفہوم بھی۔ میں بھی اس کیفیت میں کھو سی گئی۔۔
اے میرے رب تو دوجہان کے لیے غنی ہے اور میں فقیر، روز محشر میرے عذر قبول فرما لینا،
اور اگر میرا حساب لینا ناگزیر ہو تو نگاہ مصطفیٰ سے پوشیدہ رکھنا۔
بچپن میں اکثر میں سوچتی
“اتنی اچھی دادی جان کو روز محشر بھلا کیا پریشانی ہوگی۔۔” اور جب بھی میں ان سے یہ سوال کرتی وہ مزید دلگرفتہ ہوجاتیں۔۔
سوہنی زرا غور تو کر میں کس دروازے سے جنت میں داخل ہونگی۔
نہ تو میں اتنی عبادت گزار کہ باب الریان سے اللہ مجھے اندر بلالے۔ نہ اللہ نے مجھ سے کوئی قربانی مانگی کہ شہداء کی طرح میرا استقبال ہو۔ بچپن سے آج تک کرم ہی کرم ہے۔ میں تو اس قابل بھی نہ تھی کہ اللہ مجھے آزماتا۔ میرا رب ہر ضرورت بن مانگے پوری کرتا رہا۔ بس اسی سے ڈرتی ہوں دامن تو خالی ہے میرا۔۔۔ کس دروازے سے اندر پنہچوں گی !!
انکی فکر مندی اور لہجے کی شکستگی مجھے بھی پریشان کر دیتی اور کبھی میں بھی سوچنے لگتی دادی جان کس دروازے سے جنت میں جا سکتی ہیں۔ اگر اللہ بغیر دروازوں کی جنت بنا دیتا تو کتنا اچھا ہوتا۔۔۔
انٹر کے امتحانات کے بعد ٹیسٹ کی تیاری کے دوران اُن کے ساتھ گزارنے کے لیے کچھ وقت نکالنا میرے لیے ایک خوشگوار محنت تھی۔
دادی جان بتدریج کمزور تو ہو تی جا رہی تھیں لیکن بیمار نہیں تھیں۔
انہوں نے ایک فعال زندگی گزاری جو رفتہ رفتہ انکی عادتِ ثانیہ اور شخصیت کا حصہ بن گئی۔ میں نے کبھی انہیں دیر تک سوتے یا بےکار وقت ضائع کرتے نہ دیکھا۔ بہت سارے کاموں کے درمیان مطالعے کے لیے وقت نکال لیتیں کیونکہ یہ انکا شوق اور پسندیدہ مشغلہ ہی نہیں تھا بلکہ ان کی توانائی کے، خوش اور مطمئن رہنے کے، زندگی کی امنگوں کے سوتے یہیں سے پھوٹتے تھے۔انکے پاس زیادہ ڈگریاں تو نہیں تھیں البتہ اعلیٰ اردو اور فارسی سے بے حد شغف رکھتی تھیں۔ زیادہ تر اقبال اور کبھی رومی اور حافظ کے اشعار تحت الفظ مگر ایسے دلنشیں انداز میں پڑھتیں کہ شعر تخیل میں مجسم ہو کر تصویر بن جاتا۔
میری کلام اقبال سے وابستگی کا پہلا قدم ، کان میں ہر دم پڑتے رہنے والے یہی اشعار تھے
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
اسی کشمکش میں گزریں میری زندگی کی راتیں
کبھی سوز سازِ رومی کبھی پیچ و تابِ رازی
نہ تو زمیں کے لیے ہے، نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
۔۔۔۔اور اسی طرح کے بہت سے اشعار۔
کبھی بابا نجم بھائی کی کسی فرمائش پر توجہ نہ دیتے اور وہ دادی جان کے پاس آکر احتجاج کرتے تو دادی جان مسکرادیتیں اور ایک شانِ استغنا سے کہتیں
تعمیرِ خودی کر اثرِ آہِ رسا دیکھ۔۔۔
اور ان کی زیر تربیت وہ دس سالہ بچہ نئی سائیکل، تعمیر خودی اور آہ رسا کے باہمی تعلق کی گتھی سلجھاتا رہ جاتا۔
جب کوئی بچہ بار بار اٹھانے پر بھی نماز کے لیے نہ اٹھتا تو نیت باندھنے سے پہلے سنجیدہ لہجے میں قدرے بلند آواز میں کہتیں۔۔۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات۔۔
شعر کا مکمل مفہوم سمجھے بغیر دادی جان کا حتمی انداز نماز کے لیے اٹھنے پر مجبور کر دیتا۔
شامِ زندگی کی دستک کے باوجود وہ صبحِ تازہ کی طرح سرگرم کار رہتیں۔
بھرے پُرے گھر کے تمام افراد اپنے معمولات زندگی میں مصروف، اور وہ عام عمر رسیدہ خواتین کی طرح کبھی گھر کے کسی چھوٹے بڑے کی توجہ کا بارِ احسان اٹھائے بغیر اپنے کاموں میں مگن رہتیں۔
چھوٹے بچوں کو کہانیاں سنانا اور ہر عمر کے بچے کی دلچسپیوں میں دلچسپی لینا بھی انکی ایک خوئے دلبری تھی جس کے ہم سب اسیر تھے۔ تمام پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے اپنے حساب سے نام رکھے ہوئے تھے۔ کوئی سوہنی تھی جو زیادہ لاڈ میں چھونی بن جاتی کوئی موہنی، کوئی آبگینہ۔ کوئی اسکالر تھا کوئی شاہزادہ۔
بجیا کے دوپٹہ لپیٹے پھرنے سے محظوظ ہوتیں اور اکثر انہیں میری سیپ کا موتی کہہ کر لپٹا لیتیں۔
نجم بھائی کو مدبِّر کہہ کے پکارتیں اور اکثر انہیں دیکھ کر ایک خاص لے میں اقبال کا شعر پڑھا کرتیں :
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
اور کبھی سوالیہ انداز میں صرف دوسرا مصرعہ دہراتیں:
وہ کیا گَردُوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارہ؟
ایک روز، جب نجم بھائی چھوٹے تھے اور کسی بات پر خفا تھے تو انہوں نے دادی جان کے شعر پر منہ پھلایا اور یہ کہتے ہوئے باہر نکل گئے
“میں کوئی ٹوٹا ہوا تارہ وارہ نہیں ہوں”
شام تک دادی جان کچھ خاموش اور فکر مند رہیں:
رات کو انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے واقعاتِ زندگی کچھ اس طرح سنائے کہ اس وقت پیدا ہونے والی گرویدگی آج تک دل و دماغ پر نقش ہے۔اور حضرت عمر کی شخصیت ایک مینارہ نور کی طرح صحرائے حجاز کی وسیع و عریض سلطنت کے بیچوں بیچ ایستادہ نظر آتی ہے۔ جب آخر میں ہم ساکت ہوکر دریائے فرات کے نام لکھے جانے والے خط کا قصہ سن چکے تو دادی جان نے نجم بھائی کو بانہوں میں سمیٹ لیا اور گلوگیر لہجے میں بولیں۔۔۔
“میں تمہیں آسمان پر تارے کی طرح چمکتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں لیکن تدبر کے بغیر یہ روشنی کیسے حاصل ہوسکتی ہے؟؟”
مجھے یقین ہے اس رات کے بعد نجم بھائی کو گردوں تارے اور تدبر کے معنی سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آئی ہوگی۔
ابھی اینٹری ٹیسٹ کی تیاری مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ دادی جان اچانک بیمار ہو گئیں اور بیماری نے چند دن میں وہ شدت اختیار کی کہ وہ بستر کی ہو کر رہ گئیں۔۔۔۔۔۔ اب بات چیت کم کرتیں مگر بے چینی سے کروٹ بدلتی رہتیں کبھی بہت دیر تک خاموشی سے در و دیوار کو ایسے دیکھتیں کہ صاف محسوس ہوتا، دیوار کو نہیں دیوار کے پار دیکھ رہی ہیں گویا جسم یہاں ہے لیکن دل دماغ اور روح کسی اور اُدھیڑ بُن میں مصروف ہے۔
مجھے سو فیصد یقین تھا کہ یہ بے چینی جسمانی نہیں کوئی جان لیوا احساس ہے جو روح کو گھائل کیے دے رہا ہے، لیکن ہزار کوشش کے باوجود میں اسے سمجھنے سے قاصر تھی۔
اسی کیفیت میں جب میں ایک دن ان کے بستر کے قریب ان کے نرم ملائم ہاتھ کو ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی تو انہوں نے دیوار سے نظریں ہٹاکر میری آنکھوں میں دیکھا اور آہستہ سے لبوں میں حرکت ہوئی
“سوہنی بیٹا جنت کے دروازوں میں شکر کا دروازہ بھی تو ہو۔۔۔۔۔۔میرے پاس تو اُس پرور دگار کے شکران نعمت کے سوا کچھ بھی نہیں “
نہ جانے اس جملے کے اندر کیا کیا چھپا ہوا تھا۔ خوف، اندیشے، حسرتیں، تمنائیں التجا اور امید۔ یقین اور بے یقینی۔۔۔ انہوں نے اپنے اتنے گھمبیر سوال کے جواب کا انتظار کیے بغیر آنکھیں موندھ لیں اور آنسو گالوں پر سے لڑھکتے ہوئے تکیے میں جذب ہوتے رہے۔
پھر اچانک نجم بھائی ِمڈ سیمسٹر بریک پر چند دن کے لیے آگئے۔
دادی جان کی مختصر علالت اور منفرد سی کیفیت کی روداد موقع ملتے ہی میں نے بیان کر ڈالی، جسے وہ بڑی توجہ سے سنتے رہے۔رات وہ ان کے کمرے میں ہی سوئے اگلا پورا دن انہوں نے دادی جان کے ساتھ گزارا۔
نجم بھائی کو دیکھ کر دادی جان کے چہرے پر تازگی اور آواز میں کچھ جان پیدا ہوئی لیکن آنکھوں کی نمی میں انجانی سی امید و بیم کی کیفیت چھلکتی رہی۔ وہ خود تو زیادہ بول نہیں پا رہی تھیں لیکن نجم بھائی کی طرف اس والہانہ انداز سے متوجہ تھیں جیسے کوئی درماندہ مسافر آسمان پر راہنما ستارے کو مجسم امید بن کر تلاش کرتا ہو۔۔۔۔۔
ناشتے کی ٹرے لیکر جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو نجم بھائی ایک ہاتھ سے ان کا سر سہلاتے ہوئے دھیمی سی آواز میں باتوں میں گم تھے۔
“آپ نے تو ہمیں ہمیشہ عقل کے مقابلے میں عشق کی فوقیت کا سبق سکھایا ، آپ ہی نے تو ہمیں گھول کر پلایا تھا کہ
بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے۔۔۔”
اور اب آپ اسے تنہا نہیں چھوڑ رہی ہیں اور ہر چیز کو علم اور کتاب کے پیمانے سے ناپ کر پریشان ہو رہی
ہیں!!”
دادی جان نے بے بسی سے ان کی طرف دیکھا مگر بولیں کچھ نہیں۔۔
“آپکو یاد ہے یونیورسٹی جانے سے پہلے مجھے ایک سنہری موقع ملا تھا آپکے ساتھ وقت گزارنے کا۔
یاد ہے نا دادی جان؟ میں خیام کو پڑھنا چاہتا تھا لیکن آپ نے کہا
“مدبر تمہیں تو اکیسویں صدی کے تاریک آسمان پر ستارہ بن کے جگمگانا ہے اقبال شناس نہیں بنوگے تو چمکو گے کیسے؟؟”
دادی جان کی آبگیں آنکھوں میں یادوں کے دیپ جلتے بجھتے رہے۔
اور نجم بھائی بولتے رہے۔۔۔۔ پھر آپ کو یاد ہوگا آپ نے مجھے زبورِ عجم، ارمغان حجاز اور ضربِ کلیم کی چیدہ چیدہ نظمیں پڑھائیں۔
” چلیں آج میں آپکو علم و عشق سناتا ہوں۔۔۔۔ آ پ نے کہا تھا ضرب کلیم کی اس نظم سے زندگی، بلکہ مابعدِ حیات کے سبھی مراحل طے ہو جاتے ہیں۔”
دادی جان ہمہ تن گوش تھیں۔۔۔
اور نجم بھائی بالکل دادی جان کی طرح ہر لفظ کی شستہ اور واضح ادائیگی کے ساتھ نظم پڑھنے لگے
علم نے مجھ سے کہا عشقِ ہے دیوانہ پن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمینِ ظن
بندَہء تخمین ظن! کرم کتابی نہ بن
عشق سرَاپا حضور، علم سراپا حجاب
عشق کی گرمی سے ہے معرکہ کائنات
علم مقام صفات، عشق تماشائے ذات
عشق سکون و ثبات، عشق حیات و ممات
علم ہے پیدا سوال عشق ہے پنہاں جواب
علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے اُمّ الکتاب
عشق مکان و مکیں! عشق زمان و زمیں
عشق سراپا یقین اور یقیں فتحِ باب
ناشتے کی ٹرے جوں کی توں میز پر دھری تھی، دادی جان کا چہرہ پر سکون تھا، وہ سکینت کی نہ جانے کس منزل پہ گامزن تھیں، ہونٹ آہستگی سے ہل رہے تھے۔۔۔۔۔۔
اور یقیں فتحِ باب
اور یقیں فتحِ باب
شاید جنت کے سب دروازے کھل چکے تھے۔
اور یقیں فتح باب
















